کراچی سے خلیجی ممالک کے لیے پاکستانی برآمدات اچانک رک جانے سے کاروباری حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔
پورٹ ذرائع کے مطابق کراچی پورٹ کے ٹرمینلز نے خلیجی ممالک کے لیے ایکسپورٹ مال وصول کرنے سے انکار کردیا ہے، جس کے باعث کنٹینرز کی ترسیل معطل ہو گئی ہے۔
ٹرمینل حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدام ایکسپورٹرز کو ڈیمرج چارجز سے بچانے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔ ان کے مطابق موجودہ صورتحال میں اگر کنٹینرز وصول کیے جاتے تو تاخیر کی صورت میں برآمد کنندگان کو بھاری مالی نقصان برداشت کرنا پڑتا۔
دوسری جانب کلیئرنگ ایجنٹس کا مؤقف ہے کہ خلیجی ممالک کے لیے فضائی راستے سے بھی ایکسپورٹ معطل ہو چکی ہے، جس سے تازہ پھل، سبزیاں، گوشت اور دیگر جلد خراب ہونے والی اشیاء کی ترسیل شدید متاثر ہو رہی ہے۔
تجارتی ماہرین کے مطابق خلیجی ممالک پاکستان کی بڑی برآمدی منڈیوں میں شامل ہیں، اور چند روز کی معطلی بھی لاکھوں ڈالر کے نقصان کا باعث بن سکتی ہے۔
کاروباری برادری نے حکومت سے فوری مداخلت کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ صورتحال کو جلد از جلد معمول پر لایا جائے تاکہ برآمدی شعبہ مزید دباؤ کا شکار نہ ہو۔
فی الحال حکام کی جانب سے آئندہ لائحہ عمل کے بارے میں باضابطہ اعلان کا انتظار کیا جا رہا ہے، جبکہ برآمد کنندگان غیر یقینی صورتحال میں اپنے فیصلوں پر نظر ثانی کر رہے ہیں۔
