ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں کے بعد ایشیا کی اسٹاک مارکیٹس میں مندی کا سلسلہ مسلسل تیسرے روز بھی جاری رہا، جس سے سرمایہ کاروں میں غیر یقینی صورتحال بڑھ گئی ہے۔ پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے پاکستان سٹاک ایکسچینج میں کاروبار کے آغاز پر ہنڈریڈ انڈیکس میں دو ہزار سے زائد پوائنٹس کی کمی دیکھی گئی، تاہم بعد ازاں مارکیٹ نے جزوی بحالی دکھائی اور 100 انڈیکس 381 پوائنٹس کے اضافے کے ساتھ 157,514 پوائنٹس پر ٹریڈ کر رہا ہے۔ یہ اتار چڑھاؤ خطے کی سیاسی کشیدگی اور عالمی سرمایہ کاری کے جذبات کی عکاسی کرتا ہے۔
ایشیا کے دیگر اہم اسٹاک ایکسچینجز میں بھی منفی رجحان رہا، جہاں کوریا کی مارکیٹ میں 6 فیصد جبکہ جاپان کی منڈیوں میں 3 فیصد کی گراوٹ دیکھی گئی۔ منگل کو امریکی مارکیٹس میں بھی منفی رجحان ریکارڈ کیا گیا، جس سے عالمی سرمایہ کاری کی صورتحال مزید غیر یقینی ہو گئی۔
عالمی توانائی مارکیٹ میں بھی ایران کے خلاف بڑھتی کشیدگی کے اثرات واضح طور پر دکھائی دے رہے ہیں۔ خام تیل کی قیمتیں مسلسل بڑھتی رہیں، جہاں برینٹ کروڈ کی83 ڈالر فی بیرل کی سطح پر پہنچ گیا۔ سونے کی فی اونس قیمت میں بھی 88 ڈالر کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا اور یہ 5,176 ڈالر تک جا پہنچی، جبکہ یورپ میں گیس کی قیمتوں میں بھی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
ماہرین اقتصادیات کے مطابق ایران اور مغربی ممالک کے درمیان بڑھتی کشیدگی سرمایہ کاروں میں عدم اعتماد پیدا کر رہی ہے، جس کے باعث اسٹاک مارکیٹس میں اتار چڑھاؤ اور توانائی کی قیمتوں میں اضافہ جاری ہے۔ توانائی کے عالمی بحران اور سیاسی خطرات کی وجہ سے سرمایہ کار سونا اور دیگر محفوظ اثاثوں کی جانب بڑھتے ہوئے رجحان دکھا رہے ہیں۔
خطے اور عالمی منڈیوں کی موجودہ صورتحال بتاتی ہے کہ سیاسی کشیدگی اور جنگی خطرات براہِ راست معاشی اور مالیاتی شعبوں پر اثر ڈال رہے ہیں، اور سرمایہ کار محتاط انداز میں مارکیٹ میں اپنے قدم رکھ رہے ہیں۔ اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ رجحان مزید کچھ دنوں تک جاری رہ سکتا ہے، خاص طور پر اگر ایران اور مغربی ممالک کے درمیان کشیدگی مزید شدت اختیار کرے۔
