مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور ایران کے حالیہ حملوں کے بعد عالمی تجارت کو بڑا دھچکا لگا ہے، جس کے نتیجے میں دنیا کی ایک بڑی شپنگ لاجسٹک کمپنی نے خلیجی ممالک کے لیے کارگو بکنگ عارضی طور پر معطل کر دی ہے۔
رپورٹس کے مطابق کارگو بکنگ بند ہونے سے متحدہ عرب امارات، عمان، عراق، کویت، قطر اور بحرین سمیت کئی خلیجی ممالک شدید متاثر ہو رہے ہیں کیونکہ ان ممالک کی بڑی تجارتی سرگرمیاں سمندری راستوں کے ذریعے ہی جاری رہتی ہیں۔
شپنگ لاجسٹک کمپنی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ سیکیورٹی خدشات اور خطے میں غیر یقینی صورتحال کے باعث یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔ کمپنی کے مطابق سعودی عرب کے بعض شہروں کے لیے بھی کارگو بکنگ عارضی طور پر معطل کر دی گئی ہے۔
کمپنی نے واضح کیا کہ یہ فیصلہ تاحکمِ ثانی نافذ العمل رہے گا۔ تاہم سعودی عرب کی اہم بندرگاہوں جدہ اور کنگ عبداللہ پورٹ پر آپریشن بدستور جاری رہے گا۔ اسی طرح عمان کی صلالہ بندرگاہ پر شپنگ سروس معمول کے مطابق جاری رہے گی۔
مزید یہ کہ اردن اور لبنان کے لیے سامان کی بکنگ بھی جاری رکھی گئی ہے تاکہ خطے میں مکمل تجارتی تعطل پیدا نہ ہو۔
دوسری جانب خلیجی ممالک کے لیے تجارت کرنے والے تاجروں کو اضافی مالی دباؤ کا بھی سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ پاکستان سمیت دیگر ممالک سے خلیجی ریاستوں کو بھیجے جانے والے تجارتی سامان پر بھاری وار رسک سرچارج عائد کر دیا گیا ہے۔
جرمن شپنگ کمپنی ہیپگ لوائیڈ لائن نے نئی بکنگ پر فی کنٹینر 1500 سے 3500 ڈالر تک وار رسک سرچارج نافذ کر دیا ہے۔ کمپنی کے مطابق یہ اضافی چارج صرف نئی بکنگ پر لاگو ہوگا اور اس کا مقصد خطے میں بڑھتے ہوئے سیکیورٹی خطرات کے باعث ممکنہ نقصان کا ازالہ کرنا ہے۔
اسی طرح ایک اور بڑی شپنگ کمپنی سی ایم اے سی جی ایم شپنگ لائن نے بھی 4 ہزار ڈالر تک ایمرجنسی سرچارج عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ کمپنی کے مطابق یہ سرچارج نہ صرف خلیج فارس بلکہ بحیرہ احمر جانے والے کنٹینرز پر بھی لاگو ہوگا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر خطے میں کشیدگی برقرار رہی تو نہ صرف سمندری تجارت بلکہ عالمی سپلائی چین بھی شدید متاثر ہو سکتی ہے، جس کے نتیجے میں دنیا بھر میں اشیائے ضروریہ اور صنعتی خام مال کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔
