اسٹیٹ بینک نے آئندہ تین ماہ کے لیے مانیٹری پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے فیصلہ کیا ہے کہ شرح سود 10.50 فیصد پر برقرار رکھی جائے گی۔ اس اہم فیصلے کا مقصد ملک میں مالیاتی استحکام کو برقرار رکھنا اور سرمایہ کاروں، کاروباری اداروں اور عام عوام کے لیے مستقبل کے حوالے سے واضح رہنمائی فراہم کرنا ہے۔
اسٹیٹ بینک کے مطابق موجودہ اقتصادی حالات، مہنگائی کی شرح اور مالیاتی مارکیٹ کے جائزے کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ شرح سود میں تبدیلی نہ کی جائے۔ مرکزی بینک نے کہا ہے کہ اس کا مقصد مالیاتی استحکام برقرار رکھنا اور اقتصادی سرگرمیوں کو منظم انداز میں آگے بڑھانا ہے تاکہ ملک میں سرمایہ کاری کے مواقع اور قرضوں کی دستیابی متاثر نہ ہو۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ اقدام ملک کی معیشت میں استحکام اور پیش گوئی ممکن بنانے کی کوشش کے طور پر لیا گیا ہے۔ اسٹیٹ بینک نے واضح کیا کہ آئندہ سہ ماہی میں مانیٹری پالیسی کے تمام فیصلے اقتصادی حالات اور مہنگائی کی شرح کے مطابق نظرثانی کے بعد کیے جائیں گے تاکہ مالیاتی ماحول میں توازن قائم رہے اور معیشت کی ترقی کی رفتار متاثر نہ ہو۔
ماہرین کے مطابق شرح سود برقرار رکھنے کا یہ فیصلہ سرمایہ کاری کے لیے مستحکم ماحول پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ مہنگائی کے دباؤ کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ اسٹیٹ بینک کی جانب سے یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ آئندہ مالیاتی پالیسی میں ممکنہ تبدیلیاں اقتصادی ترقی، کرنسی کی قدر اور بیرونی سرمایہ کاری کے اثرات کو مدنظر رکھ کر کی جائیں گی۔
یہ فیصلہ کاروباری شعبے اور مالیاتی اداروں کے لیے اہم رہنمائی فراہم کرتا ہے، جس سے قرضوں کی قیمتوں اور سرمایہ کاری کی منصوبہ بندی میں استحکام آئے گا۔ اسٹیٹ بینک نے کہا کہ ملک کی معیشت کے استحکام اور مالیاتی پالیسی کی پیش گوئی ممکن بنانے کے لیے مستقبل میں بھی محتاط اور متوازن اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔
