اسلام آباد/ کراچی:پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی شدید قلت اورحالیہ دنوں میں ریکارڈ قیمتوں کے بعد عوام میں پریشانی پائی جاتی ہے، جس کے تناظر میں ملک نے سعودی عرب سے ایک خصوصی درخواست کی ہے کہ 23 مارچ کو عمان کی بندرگاہ پر موجود ایک بہت بڑے آئل ٹینکر (VLCC) سے 2 ملین بیرل خام تیل فراہم کیا جائے۔ اس اقدام کا مقصد ملک میں ایندھن کی سپلائی چین کو مستحکم کرنا اور ممکنہ بحران سے بچنا ہے۔ ذرائع کے مطابق اس ٹینکر سے چار پاکستانی جہاز خام تیل حاصل کریں گے، جن میں PARCO، پاکستان ریفائنری لمیٹڈ (PRL) اور نیشنل ریفائنری لمیٹڈ کے جہاز شامل ہیں۔
ابھی تک سعودی حکام نے یہ واضح نہیں کیا کہ آیا یہ ٹینکر عمان کی بندرگاہ پر لنگر انداز ہوگا یا براہِ راست پاکستانی سمندری حدود میں تیل فراہم کرے گا، جس کی وجہ سے ایندھن کی سپلائی چین میں غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ آنے والے ہفتوں میں ملک میں پیٹرول اور ڈیزل کی فراہمی پر اثر انداز ہوگا، اور اسی وجہ سے پاکستان کے پیٹرولیم سیکٹر میں تجارتی اور حکومتی سطح پر فوری منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔
انڈسٹری ذرائع کے مطابق، اس بڑے آئل ٹینکر سے PARCO کے دو جہاز، نیشنل ریفائنری لمیٹڈ کا ایک جہاز اور PRL کا ایک جہاز خام تیل حاصل کریں گے۔ اس دوران چھوٹی کھیپیں پہلے ہی پاکستان پہنچ چکی ہیں تاکہ ایندھن کی قلت کے باعث پیدا ہونے والی مشکلات میں فوری ریلیف فراہم کیا جا سکے۔
خصوصی طور پر، PARCO کی جانب سے فجیرہ، دبئی سے آنے والی 67 ہزار میٹرک ٹن خام تیل کی کھیپ پیر کی رات پاکستان پہنچ گئی ہے۔ علاوہ ازیں، پارکو کا جہاز پی این ایس سی 9 مارچ کو ینبع بندرگاہ (بحر احمر) پہنچے گا، جہاں سے وہ تقریباً 70 ہزار بیرل خام تیل حاصل کر کے 19 تا 20 مارچ کے درمیان واپس پاکستان آئے گا۔ یہ کھیپیں ملک میں پیٹرول اور ڈیزل کی طلب کو پورا کرنے میں مدد کریں گی اور سپلائی چین کو مستحکم کرنے میں کلیدی کردار ادا کریں گی۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں اور آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث پاکستان میں ایندھن کی سپلائی چین میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہوئی ہے، اور اس کی وجہ سے ملک کے مختلف حصوں میں پیٹرول اور ڈیزل کی قلت اور قیمتوں میں اضافے کا سامنا رہا ہے۔ حکومت کی جانب سے کی جانے والی یہ اقدامات اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ ملک میں ایندھن کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنانے اور عوام کی مشکلات کم کرنے کے لیے عملی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
وفاقی وزیرِ پیٹرولیم علی پرویز ملک نے اس پیش رفت کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ آنے والی بڑی کھیپوں سے ملک میں سپلائی چین بہتر ہونے اور عوام کو ریلیف ملنے کی امید ہے۔ ان کے مطابق حکومت پیٹرولیم مصنوعات کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنانے کیلئے تمام ضروری اقدامات کر رہی ہے اور آنے والے دنوں میں ملک میں پیٹرول اور ڈیزل کی قلت میں واضح کمی متوقع ہے۔
یہ اقدامات نہ صرف بڑے شہروں بلکہ ملک کے دور دراز علاقوں میں ایندھن کی ترسیل کو بھی بہتر کریں گے اور ٹرانسپورٹ، صنعت اور عوامی سطح پر ایندھن کی دستیابی کو یقینی بنانے میں مددگار ثابت ہوں گے۔ حکام کے مطابق آنے والے ہفتوں میں ان بڑی کھیپوں کی آمد سے پاکستان میں پیٹرول اور ڈیزل کی فراہمی کا نظام بتدریج معمول پر آنے کی توقع ہے، جس سے سپلائی چین میں پائیداری آئے گی اور عوام کی مشکلات میں کمی آئے گی
