ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی اور جنگی صورتحال کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ دیکھا جا رہا ہے، جس کے اثرات پاکستان سمیت کئی ممالک کی مقامی مارکیٹ پر بھی پڑ رہے ہیں۔ اسی تناظر میں وفاقی حکومت نے مٹی کے تیل کی قیمت میں بڑا اضافہ کرتے ہوئے اسے 39 روپے 20 پیسے فی لیٹر مہنگا کر دیا ہے، جس کے بعد مٹی کے تیل کی نئی قیمت 358 روپے ایک پیسہ فی لیٹر مقرر کر دی گئی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی سطح پر توانائی کی منڈی غیر یقینی صورتحال کا شکار ہے، اور اگر جنگی حالات برقرار رہے تو تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔ اس صورتحال کا براہِ راست اثر پاکستان جیسے درآمدی تیل پر انحصار کرنے والے ممالک پر پڑتا ہے۔
دوسری جانب وفاقی حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل پر عائد پٹرولیم لیوی برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق فی الحال پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں لیوی کے حوالے سے کوئی تبدیلی نہیں کی جا رہی اور یہ بدستور موجودہ سطح پر برقرار رہے گی۔
معاشی ماہرین کے مطابق مٹی کے تیل کی قیمت میں اس نمایاں اضافے سے خاص طور پر دیہی علاقوں کے صارفین متاثر ہوں گے، جہاں اب بھی گھریلو استعمال کے لیے مٹی کے تیل پر انحصار کیا جاتا ہے۔
