بلوچستان میں ایران کے ساتھ جاری کشیدگی اور جنگی صورتحال نے سرحدی معیشت کو ہلا کر رکھ دیا ہے، جہاں برسوں سے جاری غیر رسمی ایندھن تجارت اب شدید بحران کا شکار ہو چکی ہے۔ کوئٹہ کے علاقے بریوری روڈ کے رہائشی 29 سالہ عبدالرؤف، جو ایرانی ایندھن خرید کر فروخت کرتے تھے، آج شدید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔
ان کے مطابق، ماضی میں ہزار گنجی مارکیٹ سے سستا ایرانی پیٹرول حاصل کرنا ایک معمول تھا، مگر اب 300 لیٹر ایندھن حاصل کرنے کے لیے بھی گھنٹوں انتظار کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جنگ کے آغاز کے بعد نہ صرف ایندھن کی دستیابی کم ہو گئی ہے بلکہ قیمتیں بھی آسمان کو چھونے لگی ہیں۔عبدالرؤف کے مطابق، ایرانی ایندھن کی قیمت 160 روپے فی لیٹر سے بڑھ کر 255 روپے تک جا پہنچی ہے، جس نے ان جیسے چھوٹے کاروباری افراد کی کمر توڑ دی ہے۔ پہلے وہ روزانہ تقریباً 3,000 روپے کما لیتے تھے، لیکن اب اکثر خالی کنٹینرز کے ساتھ ہی واپس لوٹنا پڑتا ہے۔
پاکستان اور ایران کے درمیان تقریباً 909 کلومیٹر طویل سرحد بلوچستان میں واقع ہے، جہاں دہائیوں سے غربت اور محدود روزگار کے باعث مقامی آبادی غیر رسمی تجارت پر انحصار کرتی آئی ہے۔ ایرانی ایندھن، جو سبسڈی کے باعث سستا ہوتا ہے، بڑی مقدار میں بلوچستان اور دیگر علاقوں تک پہنچایا جاتا رہا ہے۔یہ ایندھن نہ صرف مقامی استعمال میں آتا ہے بلکہ سندھ کے مختلف علاقوں تک بھی پہنچایا جاتا ہے۔ تاہم جنگ کے باعث سرحدی نقل و حرکت میں رکاوٹوں نے اس پورے نظام کو مفلوج کر دیا ہے۔
مقامی ڈیلرز کے مطابق، ماضی میں روزانہ لاکھوں لیٹر ایرانی ایندھن پاکستان میں داخل ہوتا تھا، جبکہ حکومتی اندازوں کے مطابق 2024 میں یہ مقدار 5 سے 6 ملین لیٹر یومیہ تک تھی۔ لیکن حالیہ جنگ کے بعد یہ سپلائی نمایاں حد تک کم ہو چکی ہے، جس کے باعث قلت اور مہنگائی دونوں میں اضافہ ہوا ہے۔ایک مقامی سرکاری ملازم عبدالغفار، جو اضافی آمدن کے لیے رکشہ چلاتے ہیں، کہتے ہیں کہ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو لوگ پاکستانی پیٹرول خریدنے کے قابل نہیں رہیں گے۔ ان کے مطابق، “اگر ایرانی ایندھن مکمل بند ہو گیا تو لوگوں کو سائیکلوں پر آنا پڑے گا۔”
صرف غیر رسمی تجارت ہی نہیں بلکہ دونوں ممالک کے درمیان قانونی تجارت بھی شدید متاثر ہوئی ہے۔ کوئٹہ چیمبر آف کامرس کے صدر محمد ایوب میرانی کے مطابق، پاک-ایران تجارت کا تقریباً 95 فیصد متاثر ہو چکا ہے، جس سے تاجروں کو بھاری نقصان کا سامنا ہے۔اعداد و شمار کے مطابق، پاکستان سالانہ تقریباً 800 ملین ڈالر کی برآمدات ایران کو کرتا ہے جبکہ 3.5 بلین ڈالر کی درآمدات کرتا ہے۔ دونوں ممالک نے اس تجارت کو 10 بلین ڈالر تک بڑھانے کا ہدف رکھا تھا، جو اب خطرے میں پڑ گیا ہے۔
ایرانی مائع پیٹرولیم گیس (LPG جو پاکستان کی توانائی ضروریات کا اہم حصہ ہے، اس کی فراہمی بھی متاثر ہوئی ہے۔ تفتان بارڈر پر موجود درآمد کنندگان کے مطابق، پہلے روزانہ 100 سے 150 ایل پی جی باؤزر پاکستان آتے تھے، جو اب کم ہو کر صرف 15 سے 25 رہ گئے ہیں۔ایل پی جی درآمد کنندہ حاجی شوکت عیسیٰ زئی کے مطابق، “اب صرف وہی لوگ کاروبار کر پا رہے ہیں جن کے پاس پہلے سے ذخیرہ موجود ہے، نئی سپلائی تقریباً رک چکی ہے۔”مقامی انتظامیہ نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ جنگ کے باعث سرحدی تجارت کی رفتار سست پڑ گئی ہے۔ ضلع چاغی کے حکام کے مطابق، پاکستانی ڈرائیور ایران جانے سے ہچکچا رہے ہیں جبکہ ایرانی تاجر بھی سامان لے کر پاکستان آنے سے گریز کر رہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق، اگر یہ صورتحال طویل عرصے تک برقرار رہی تو نہ صرف ہزاروں افراد بے روزگار ہو جائیں گے بلکہ بلوچستان میں غربت میں مزید اضافہ ہوگا۔ سرحدی علاقوں کی معیشت، جو پہلے ہی کمزور ہے، مکمل طور پر بیٹھ سکتی ہے۔یہ بحران صرف ایندھن کی قلت تک محدود نہیں بلکہ ایک بڑے انسانی اور معاشی چیلنج کی شکل اختیار کر رہا ہے، جس کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید شدت اختیار کر سکتے ہیں۔
