مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باوجود پاکستان کے لیے ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں پاکستان کا ایک تیل بردار جہاز بحفاظت آبنائے ہرمز عبور کر کے کراچی کی جانب رواں دواں ہے۔ شپ ٹریکنگ ویب سائٹ میرین ٹریفک کے مطابق پاکستانی پرچم بردار آئل ٹینکر “کراچی” کو پیر کے روز خلیج اومان میں سفر کرتے دیکھا گیا، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ خطے میں شدید کشیدگی کے باوجود پاکستان کی توانائی سپلائی لائن برقرار ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران نے اسرائیل اور امریکہ کے ساتھ جاری کشیدگی کے بعد 28 فروری سے آبنائے ہرمز کو ان ممالک اور ان کے اتحادیوں کے جہازوں کے لیے محدود کر دیا ہے۔ تاہم ایران نے پاکستان کو ان ممالک کی فہرست میں شامل رکھا ہے جن کے جہازوں کو اس اہم گزرگاہ سے محفوظ راستہ فراہم کیا جا رہا ہے، جو پاکستان کے لیے ایک بڑی سفارتی کامیابی تصور کی جا رہی ہے۔
آبنائے ہرمز عالمی سطح پر نہایت اہم سمندری راستہ ہے جہاں سے دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل کی ترسیل ہوتی ہے۔ خلیجی ممالک اپنی توانائی کی برآمدات کے لیے اسی راستے پر انحصار کرتے ہیں، اس لیے یہاں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی معیشت پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔
جنگ کے آغاز پر ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت میں امریکہ نے اس گزرگاہ کی حفاظت کا اعلان کیا تھا، تاہم بعد ازاں امریکی بحریہ نے تنہا یہ ذمہ داری اٹھانے سے گریز کیا۔ اس کے بعد امریکہ نے نیٹو اور دیگر اتحادی ممالک سے مدد طلب کی، مگر برطانیہ، جرمنی، اٹلی، سپین اور بیلجیئم سمیت کئی ممالک نے اس میں شمولیت سے انکار کر دیا۔ اسی طرح آسٹریلیا اور جاپان نے بھی مثبت جواب نہیں دیا۔
اس صورتحال کے پیش نظر مختلف ممالک نے ایران کے ساتھ سفارتی رابطے تیز کر دیے ہیں تاکہ ان کے تیل بردار جہازوں کی محفوظ آمد و رفت یقینی بنائی جا سکے۔ پاکستان کو بھی ایران کی جانب سے یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ اس کے جہازوں کو کسی قسم کی رکاوٹ کا سامنا نہیں ہوگا۔
ماہرین کے مطابق پاکستانی آئل ٹینکر کا بحفاظت آبنائے ہرمز سے گزرنا نہ صرف ملک کی توانائی ضروریات کے تسلسل کے لیے اہم ہے بلکہ یہ پاکستان کی متوازن خارجہ پالیسی اور سفارتی روابط کی کامیابی کی بھی عکاسی کرتا ہے۔ تاہم خطے میں جاری کشیدگی کے باعث صورتحال بدستور غیر یقینی ہے اور کسی بھی وقت تبدیلی آ سکتی ہے۔
