وفاقی حکومت نے غیر قانونی رقوم کی منتقلی، منی لانڈرنگ اور حوالہ ہنڈی کے کاروبار کے مکمل خاتمے کے لیے ملک گیر سطح پر بھرپور اور منظم کارروائی کا فیصلہ کر لیا ہے، جس کے تحت ملوث افراد، گروہوں اور سہولت کاروں کے خلاف بلا امتیاز اقدامات کیے جائیں گے۔
وزیر داخلہ محسن نقوی اور وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی مشترکہ صدارت میں ہونے والے اعلیٰ سطحی اجلاس میں اس حوالے سے تفصیلی غور کیا گیا۔ اجلاس میں متعلقہ اداروں نے غیر قانونی ذرائع سے بیرونِ ملک رقوم کی منتقلی، مالی بے ضابطگیوں اور حوالہ ہنڈی کے پھیلتے ہوئے نیٹ ورک پر بریفنگ دی۔
اجلاس میں واضح کیا گیا کہ غیر قانونی طریقوں سے رقوم بیرونِ ملک منتقل کرنا ملکی معیشت کے لیے شدید نقصان دہ ہے، اس سے نہ صرف زرمبادلہ کے ذخائر متاثر ہوتے ہیں بلکہ معیشت پر دباؤ بھی بڑھتا ہے۔ اس تناظر میں فیصلہ کیا گیا کہ ایسے عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی اور کسی قسم کی رعایت نہیں دی جائے گی۔
حکومت نے اس بات پر زور دیا کہ بیرونِ ملک رقوم کی ترسیل صرف بینکاری نظام اور دیگر قانونی ذرائع کے ذریعے ہی ممکن بنائی جائے گی۔ اس مقصد کے لیے ترسیلات کے نظام کو مزید مؤثر، محفوظ اور شفاف بنانے کے اقدامات کیے جائیں گے تاکہ عوام کو آسان اور قابلِ اعتماد سہولت میسر ہو۔
اس سلسلے میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان اورفیڈرل انوسٹی گیشن ایجنسی کے درمیان ایک مشترکہ عملی کمیٹی قائم کرنے کافیصلہ کیاگیاہے،جو باقاعدگی سےپیش رفت کاجائزہ لےگی، معلومات کا تبادلہ کرے گی اور کارروائیوں کو مزید مؤثر بنائے گی۔
اجلاس میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ غیر قانونی رقوم کی منتقلی کے تمام ذرائع، بشمول خفیہ نیٹ ورکس اور غیر رجسٹرڈ کاروباری سرگرمیوں، کی کڑی نگرانی کی جائے گی۔ بڑے مالی جرائم میں ملوث عناصر کے خلاف فوری، فیصلہ کن اور مؤثر کارروائی عمل میں لائی جائے گی، جبکہ ان کے مالی ذرائع کو بھی بند کیا جائے گا۔
وزیر داخلہ اور وزیر خزانہ نے دوٹوک مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ حوالہ اور ہنڈی کے کاروبار کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا اور اس کے مکمل خاتمے کے لیے ریاستی ادارے ہمہ وقت متحرک رہیں گے۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ قانون پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنایا جائے اور عوام کو قانونی ذرائع اختیار کرنے کی ترغیب دی جائے۔
حکام کا کہنا ہے کہ ان اقدامات سے نہ صرف غیر قانونی مالی سرگرمیوں کا خاتمہ ممکن ہوگا بلکہ ملکی معیشت کو استحکام ملے گا، زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری آئے گی اور مالیاتی نظام پر عوام کا اعتماد مزید مضبوط ہوگا۔
