اسلام آباد: پاکستان میں تعینات روسی سفیر البرٹ پی خوریف نے کہا ہے کہ اگر پاکستان روس سے رابطہ کرے تو اسے سستا تیل فراہم کیا جائے گا۔ سفیر نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے واضح کیا کہ توانائی کا شعبہ پاکستان اور روس کے درمیان دوطرفہ تعاون کا اہم ستون ہے اور پاکستان اس صورتحال سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔
البرٹ پی خوریف نے بتایا کہ تیل کی خریداری کے لیے پاکستان کی جانب سے روس سے رابطے کا ابھی تک علم نہیں ہے، تاہم رابطہ کیا گیا تو سستا تیل فراہم کیا جائے گا۔ روسی سفیر نے ایران کے ساتھ کئی دہائیوں پر محیط فوجی اور تکنیکی تعاون کا ذکر بھی کیا اور کہا کہ ایران کا ردعمل امریکی فوجی تنصیبات کے خلاف تھا جو خلیجی آبناؤں میں موجود ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران کی کارروائیوں اور مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال پر پیشگی کوئی تبصرہ ممکن نہیں، کیونکہ حالات غیریقینی اور پیچیدہ ہیں۔
روس کے سفیر نے امریکی صدر کی فوجی مہم جوئی پر پوری دنیا کے حیران ہونے کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ موجودہ کشیدگی کب اور کیسے ختم ہوگی، اس کی پیشگوئی ممکن نہیں۔
انہوں نے ایران میں اسکول پر حملے کی شدید مذمت کی اور کہا کہ حملے میں 170 بچوں کی ہلاکت قابل مذمت ہے۔ البرٹ پی خوریف نے تمام فریقین سے مطالبہ کیا کہ طاقت کے استعمال سے گریز کریں اور مسائل کا حل اقوام متحدہ کے چارٹر کے تحت سیاسی اور سفارتی طریقے سے نکالا جائے۔
روسی سفیر نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل نے ایران پر طاقت کا استعمال کرکے بحران کو مزید بڑھایا ہے اور ایران کی قیادت کو کمزور کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس عمل سے اسلامی دنیا میں اختلافات پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

Add A Comment