لندن: مالیاتی اخبار ’’فنانشل ٹائمز‘‘ کے مطابق بین الاقوامی بحری تنظیم کے سیکریٹری جنرل آرسینیو دومینگیز نے خبردار کیا ہے کہ تجارتی جہازوں کے ساتھ جنگی بحری جہازوں کی موجودگی بھی مکمل طور پر محفوظ گزر کی ضمانت فراہم نہیں کر سکتی۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس نوعیت کی فوجی معاونت نہ تو طویل المدتی حل ہے اور نہ ہی پائیدار حکمت عملی ثابت ہو سکتی ہے۔
آبنائے ہرمز، جو عالمی سطح پر تقریباً بیس فیصد تیل اور مائع قدرتی گیس کی ترسیل کا اہم ترین راستہ ہے، تاحال جزوی طور پر بند ہے۔ اس صورتحال کے باعث عالمی توانائی کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے اور مہنگائی کے خدشات بھی بڑھ گئے ہیں۔
بندش کے باعث سپلائی کے نظام کو شدید دباؤ کا سامنا ہے، جس کے نتیجے میں تجارتی کمپنیوں کو متبادل راستے اختیار کرنا پڑ رہے ہیں، جن میں سمندری راستوں کی تبدیلی، زمینی ترسیل میں اضافہ اور جلد خراب ہونے والی اشیاء کے تحفظ کے لیے فوری اقدامات شامل ہیں۔
آرسینیو دومینگیز نے کہا کہ بحری شعبہ اس تنازع کا براہ راست فریق نہیں بلکہ اس کے ضمنی اثرات کا شکار ہے، کیونکہ اس کشیدگی کے بنیادی اسباب کا بحری نقل و حمل سے کوئی تعلق نہیں۔
بین الاقوامی بحری تنظیم کی کونسل اس صورتحال کے پیش نظر بدھ اور جمعرات کو لندن میں ہنگامی اجلاس منعقد کرے گی، جس میں مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے بحری تجارت پر اثرات اور جہازوں کے عملے کو درپیش خطرات کا جائزہ لیا جائے گا۔
دومینگیز نے جہاز رانی کمپنیوں سے اپیل کی کہ وہ موجودہ بحران میں غیر ضروری خطرہ مول نہ لیں اور جہازوں کے ساتھ ساتھ عملے کی سلامتی کو ترجیح دیں۔
سیاسی پس منظر میں امریکی صدر نے بعض مغربی اتحادی ممالک پر تنقید کی ہے، جنہوں نے تیل بردار جہازوں کی حفاظت کے لیے بحری دستے بھیجنے کی درخواست مسترد کر دی تھی۔
