ایران نے امریکا کے ساتھ براہِ راست مذاکرات سے متعلق گردش کرنے والی خبروں کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے اسے گمراہ کن پروپیگنڈا قرار دے دیا ہے۔ ایرانی قیادت نے واضح کیا ہے کہ موجودہ حالات میں واشنگٹن کے ساتھ کسی قسم کی براہِ راست بات چیت نہیں ہو رہی۔
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے اپنے بیان میں کہا کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں کو متاثر کرنے کیلئے جان بوجھ کر جھوٹی خبریں پھیلائی جا رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایرانی عوام بیرونی دباؤ کے سامنے جھکنے کے بجائے حملہ آوروں کو سخت جواب دینے کے حق میں ہیں۔
دوسری جانب ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے امریکی صدر کے حالیہ بیان کو “وقت حاصل کرنے کی کوشش” قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکا درحقیقت دباؤ میں آکر پسپائی اختیار کر رہا ہے۔ ترجمان کے مطابق ایران پر جوابی کارروائی کی دھمکیوں نے امریکی قیادت کو محتاط رویہ اپنانے پر مجبور کیا۔
ترجمان نے مزید کہا کہ خطے کے کئی ممالک کشیدگی کم کرنے کیلئے سفارتی کوششیں کر رہے ہیں، تاہم آبنائے ہرمز کی صورتحال اب پہلے جیسی نہیں رہے گی، جو عالمی توانائی رسد کیلئے ایک اہم گزرگاہ ہے۔
ادھر ایرانی وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان نے اپنے روسی اور ترک ہم منصبوں سے اہم رابطے کیے، جن میں خطے کی سیکیورٹی، آبنائے ہرمز کی صورتحال اور ممکنہ خطرات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے ایران کے مؤقف کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی ملک کی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانا بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ایران کے جوہری ڈھانچے پر حملے ناقابلِ قبول ہیں اور اس کے سنگین عالمی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
مجموعی طور پر خطے میں صورتحال تیزی سے بدل رہی ہے، جہاں ایک طرف سفارتی کوششیں جاری ہیں تو دوسری جانب کشیدگی میں کمی کے آثار تاحال واضح نہیں۔ ایران کا سخت مؤقف اور عالمی طاقتوں کی بڑھتی دلچسپی اس بحران کو مزید حساس بنا رہی ہے۔
