ایران سے جڑی بڑھتی ہوئی کشیدگی اور ممکنہ جنگی صورتحال نے عالمی معیشت کو اپنی لپیٹ میں لینا شروع کر دیا ہے، جس کے اثرات اب واضح طور پر کرنسی مارکیٹس میں بھی نظر آ رہے ہیں۔ اسی تناظر میں جنوبی کوریائی وون شدید دباؤ کا شکار ہو گئی ہے اور اس کی قدر امریکی ڈالر کے مقابلے میں 17 سال کی کم ترین سطح تک گر گئی ہے، جو ماہرین کیلئے ایک تشویشناک اشارہ ہے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق جنوبی کوریا کی کرنسی مارکیٹ میں شدید اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا، جہاں سرمایہ کاروں نے غیر یقینی صورتحال کے پیش نظر خطرہ مول لینے کے بجائے اپنے اثاثے محفوظ سرمایہ کاری کی طرف منتقل کرنا شروع کر دیے۔ اس رجحان کے نتیجے میں امریکی ڈالر کی مانگ میں نمایاں اضافہ ہوا، جبکہ وون کی قدر تیزی سے کمزور ہوتی چلی گئی، یہاں تک کہ ایک ڈالر کے مقابلے میں اس کی قیمت 1510 وون تک جا پہنچی۔
معاشی ماہرین کے مطابق یہ صورتحال صرف ایک کرنسی کی گراوٹ نہیں بلکہ ایک بڑے عالمی رجحان کی عکاسی کرتی ہے، جہاں جغرافیائی سیاسی کشیدگی مالیاتی منڈیوں کو براہِ راست متاثر کر رہی ہے۔ ایران سے متعلق غیر یقینی حالات نے سرمایہ کاروں کو محتاط بنا دیا ہے، جس کے باعث وہ ابھرتی ہوئی معیشتوں سے سرمایہ نکال کر نسبتاً محفوظ معیشتوں اور کرنسیز، خصوصاً ڈالر، میں منتقل کر رہے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق وون کی موجودہ سطح 2009 کے بعد سب سے کم ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ موجودہ بحران نے ایشیائی معیشتوں پر شدید دباؤ ڈال دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر خطے میں کشیدگی برقرار رہی تو نہ صرف جنوبی کوریا بلکہ دیگر ایشیائی ممالک کی کرنسیاں بھی مزید دباؤ کا شکار ہو سکتی ہیں۔
مزید برآں، اس صورتحال کے اثرات صرف کرنسی مارکیٹ تک محدود نہیں بلکہ تجارتی سرگرمیوں، درآمدات اور برآمدات پر بھی پڑ سکتے ہیں، جس سے مہنگائی میں اضافے اور معاشی سست روی کے خدشات بھی بڑھ رہے ہیں۔
مجموعی طور پر، ایران سے جڑی کشیدگی نے ایک بار پھر یہ ثابت کر دیا ہے کہ عالمی سیاست اور معیشت ایک دوسرے سے گہرے طور پر جڑی ہوئی ہیں، اور کسی ایک خطے میں پیدا ہونے والا بحران پوری دنیا کی مالیاتی سمت کو تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے
