آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کمپنی لمیٹڈ (او جی ڈی سی ایل) نے حیدرآباد میں واقع اپنے ترقیاتی کنویں ’پساخی 13‘ سے تیل کی پیداوار کے آغاز کا اعلان کیا ہے۔ یہ کنواں پاکستان کا پہلا کلسٹک ذخیرے کا کامیاب ہوریزونٹل آئل ویل ہے، جس میں جدید ٹیکنالوجی اور ڈرلنگ تکنیک کا استعمال کیا گیا ہے۔
کمپنی کے مطابق، پساخی 13 کنواں اس وقت یومیہ 460 بیرل تیل پیدا کر رہا ہے، جس کی کھدائی 2,966 میٹر گہرائی تک کی گئی ہے، جس میں 546 میٹر کا ہوریزونٹل سیکشن بھی شامل ہے۔ اس کنویں کی کھدائی میں جدید جیو اسٹیئرنگ ٹیکنالوجی کا استعمال کیا گیا، جس کے ذریعے صرف 3 میٹر کے محدود ڈرلنگ زون میں درست سمت میں کھدائی ممکن ہوئی، جس سے ذخیرے کے بہترین حصے تک رسائی حاصل ہوئی۔
او جی ڈی سی ایل نے اس بات کا ذکر کیا کہ اس کنویں کو شارٹ اسٹرنگ الیکٹرک سبمرسبل پمپ کے ذریعے مکمل اور ٹیسٹ کیا گیا ہے، جو خاص طور پر ہوریزونٹل کنوؤں کے لیے موزوں بنایا گیا ہے۔ اس کامیاب آپریشن کے نتیجے میں تیل کی پیداوار میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، اور اس طریقہ کار کے تحت تقریباً تین گنا زیادہ پیداوار حاصل کی جا رہی ہے، جو کہ اسی نوعیت کے دیگر کنوؤں کے مقابلے میں قابل ذکر ہے۔
پساخی 13 کنواں ’پساخی‘ اور ’پساخی نارتھ ڈیولپمنٹ اینڈ پروڈکشن لیز‘ کا حصہ ہے، جس میں او جی ڈی سی ایل کا 100 فیصد حصہ ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ کامیابی جدید ٹیکنالوجی کے استعمال اور تکنیکی مہارت کے عزم کی عکاسی کرتی ہے، اور اس سے پاکستان کی مقامی سطح پر ہائیڈروکاربن کی پیداوار میں اضافہ ہوگا، جو کہ ملک کی طویل مدتی توانائی سلامتی کے لیے نہایت اہم ہے۔
او جی ڈی سی ایل کی اس کامیابی سے نہ صرف پاکستان کی توانائی کی خودکفالت میں مدد ملے گی بلکہ یہ ملک کی اقتصادی ترقی میں بھی ایک اہم سنگ میل ثابت ہو گا۔
