پاکستان کی سیاست ایک بار پھر غیر معمولی موڑ پر آ کھڑی ہوئی ہے، جہاں ایک حساس اور دور رس اثرات رکھنے والا معاملہ سامنے آیا ہے۔ سابق وزیر اعظم عمران خان کے صاحبزادے قاسم خان سے منسوب اطلاعات میں کہا گیا ہے کہ انہوں نے یورپی یونین سے پاکستان کا GSP+ اسٹیٹس ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہےایک ایسا دعویٰ جس نے نہ صرف سیاسی حلقوں بلکہ معاشی ماہرین میں بھی تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان کی معیشت شدید دباؤ کے بعد بتدریج بحالی کی جانب گامزن ہے۔ برآمدات میں اضافہ، زرمبادلہ کے ذخائر کی بہتری اور صنعتی سرگرمیوں کی بحالی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہیں۔ ایسے میں GSP+ اسٹیٹس کو ایک “معاشی لائف لائن” تصور کیا جاتا ہے، جو پاکستان کو یورپی منڈیوں تک خصوصی رسائی فراہم کرتا ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ اسٹیٹس صرف ایک تجارتی رعایت نہیں بلکہ ٹیکسٹائل، گارمنٹس اور دیگر برآمدی شعبوں کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس کے ذریعے پاکستانی مصنوعات کو کم یا صفر ڈیوٹی پر یورپ میں داخلے کی اجازت ملتی ہے، جس سے نہ صرف برآمدات بڑھتی ہیں بلکہ لاکھوں افراد کا روزگار بھی وابستہ ہے۔ اگر اس سہولت کو کوئی خطرہ لاحق ہوتا ہے تو اس کے اثرات فوری طور پر فیکٹریوں، مزدوروں اور ملکی معیشت پر ظاہر ہو سکتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر واقعی اس نوعیت کی کوئی لابنگ کی گئی ہے تو یہ محض ایک سیاسی اقدام نہیں بلکہ ایک ایسا قدم ہو سکتا ہے جو داخلی سیاست کو عالمی سطح پر لے جا کر پاکستان کے اقتصادی مفادات کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ ان کے مطابق عالمی فورمز پر اس طرح کے معاملات اٹھانے سے نہ صرف سفارتی تعلقات متاثر ہوتے ہیں بلکہ ملک کی ساکھ پر بھی سوالات اٹھ سکتے ہیں۔
دوسری جانب حکومتی سطح پر معاشی استحکام کے لیے اقدامات تیز کر دیے گئے ہیں۔ وزیر اعظم کی ہدایت پر اوگرا کو 27 ارب روپے کی پہلی قسط جاری کی جا چکی ہے تاکہ توانائی کے شعبے میں مالی دباؤ کم کیا جا سکے اور صنعتی سرگرمیوں کو جاری رکھا جا سکے۔
موجودہ صورتحال نے ایک اہم بحث کو جنم دیا ہے: کیا سیاسی اختلافات کو اس حد تک لے جانا مناسب ہے جہاں قومی معاشی مفادات داؤ پر لگ جائیں؟ یا پھر ایسے حساس معاملات میں قومی ترجیحات کو مقدم رکھتے ہوئے محتاط اور ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنا ضروری ہے؟
یہ معاملہ آنے والے دنوں میں نہ صرف سیاسی بیانیے کو متاثر کرے گا بلکہ یہ بھی طے کرے گا کہ پاکستان اپنی معاشی ترجیحات اور عالمی تعلقات کے حوالے سے کس سمت میں آگے بڑھتا ہے۔
