برطانیہ میں ایران پر مسلط جنگ کے باعث عالمی سطح پر بڑھتی مہنگائی کے اثرات سے نمٹنے کیلئے حکومت نے بڑا ریلیف پیکیج نافذ کر دیا ہے، جس کا اطلاق آج سے شروع ہو گیا ہے۔ اس پیکیج کا مقصد کمزور اور متوسط طبقے کو مالی دباؤ سے بچانا اور روزمرہ اخراجات میں کمی لانا ہے۔
سر کیئر اسٹارمر نے کہا ہے کہ ان کی حکومت عوام کو ریلیف دینے کیلئے ہنگامی اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ آبنائے ہرمز کی بحالی انتہائی ضروری ہے کیونکہ تیل کی ترسیل اسی راستے سے ممکن ہے اور اس کے کھلنے سے عالمی منڈی میں قیمتوں میں کمی آ سکتی ہے۔
برطانوی وزیراعظم نے توانائی، انشورنس اور شپنگ کمپنیوں کے اعلیٰ حکام سے اہم ملاقاتیں کیں، جس کے بعد صورتحال کا جائزہ لینے کیلئے ہنگامی سطح پر کوبرا اجلاس منعقد کیا گیا، جس میں معاشی اور توانائی بحران سے نمٹنے کی حکمت عملی طے کی گئی۔
حکومت کی جانب سے اعلان کیا گیا ہے کہ نیشنل لیونگ ویج کو بڑھا کر 12.71 پاؤنڈ فی گھنٹہ کر دیا گیا ہے، جس سے تقریباً 24 لاکھ ملازمین کو سالانہ اوسطاً 900 پاؤنڈ اضافی آمدن حاصل ہوگی۔ اسی طرح کم از کم اجرت کو بڑھا کر 10.85 پاؤنڈ کر دیا گیا ہے، جس سے 2 لاکھ نوجوان ملازمین کو تقریباً 1500 پاؤنڈ سالانہ اضافی فائدہ پہنچے گا۔
اس کے علاوہ توانائی کے بلوں میں بھی نمایاں کمی کا اعلان کیا گیا ہے، جس کے تحت سالانہ اوسطاً 117 پاؤنڈ تک کمی کی جائے گی اور یہ سہولت جون تک نافذ العمل رہے گی۔ حکومت نے ادویات کی قیمتوں کو بھی منجمد کر دیا ہے تاکہ عوام کو صحت کے شعبے میں مزید مالی بوجھ کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
سر کیئر اسٹارمر نے کہا کہ ایران جنگ کے باعث عالمی سطح پر غیر یقینی صورتحال پیدا ہوئی ہے جس سے عوام میں تشویش پائی جاتی ہے، تاہم حکومت ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے تاکہ مہنگائی پر قابو پایا جا سکے اور شہریوں کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کیا جا سکے۔
ماہرین کے مطابق برطانیہ کا یہ اقدام دیگر ممالک کیلئے بھی مثال بن سکتا ہے، جو عالمی بحران کے اثرات سے نمٹنے کیلئے اپنے عوام کو براہ راست ریلیف دینے کی پالیسی اختیار کر رہے ہیں
