اسلام آباد: ملک میں مہنگائی کے دباؤ کے درمیان وزیراعظم شہباز شریف نے عوام کو بڑا ریلیف دیتے ہوئے پیٹرول کی قیمت میں فی لیٹر اسی روپے کمی کا اعلان کر دیا، جس کے بعد نئی قیمت تین سو اٹھہتر روپے فی لیٹر مقرر کر دی گئی ہے۔
قوم سے خطاب میں وزیراعظم نے کہا کہ یہ فیصلہ غیر معمولی حالات میں عوام کو فوری ریلیف فراہم کرنے کے لیے کیا گیا ہے، اور نئی قیمتوں کا اطلاق آج رات بارہ بجے سے ہوگا۔ انہوں نے بتایا کہ پیٹرول پر عائد محصول میں بھی نمایاں کمی کی گئی ہے تاکہ اس کا براہ راست فائدہ عوام تک پہنچ سکے۔
وزیراعظم نے اعتراف کیا کہ خطے میں جاری کشیدگی اور عالمی منڈی میں تیل کی بڑھتی قیمتوں نے عوام کے لیے زندگی کو مشکل بنا دیا ہے، تاہم حکومت نے محدود وسائل کے باوجود عوامی مشکلات کم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ انہیں بخوبی احساس ہے کہ عام آدمی کن حالات میں زندگی گزار رہا ہے، اسی لیے حکومت نے صرف پیٹرول کی قیمت کم کرنے پر اکتفا نہیں کیا بلکہ ایک جامع ریلیف پیکج بھی متعارف کرایا ہے۔
اس پیکج کے تحت پبلک ٹرانسپورٹ کو ایک لاکھ روپے ماہانہ سبسڈی دی جائے گی، جبکہ چھوٹے ٹرک مالکان کو ستر ہزار اور بڑے ٹرک مالکان کو اسی ہزار روپے ماہانہ امداد فراہم کی جائے گی۔ اس کے علاوہ مال بردار گاڑیوں کے لیے اضافی سہولتیں بھی دی جائیں گی تاکہ اشیائے ضروریہ کی ترسیل متاثر نہ ہو۔
زرعی شعبے کو سہارا دینے کے لیے چھوٹے کسانوں کو فی ایکڑ پندرہ سو روپے امداد دینے کا اعلان بھی کیا گیا، جبکہ ریلوے کی اکانومی کلاس کے کرایوں میں اضافہ نہ کرنے کا فیصلہ برقرار رکھا گیا ہے تاکہ عام آدمی پر مزید بوجھ نہ پڑے۔
وزیراعظم نے حکومتی اخراجات میں کمی کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے اعلان کیا کہ کابینہ ارکان دو ماہ کے بجائے چھ ماہ کی تنخواہیں قومی خزانے میں جمع کرائیں گے، تاکہ قومی وسائل کا بہتر استعمال یقینی بنایا جا سکے۔
انہوں نے بتایا کہ ان فیصلوں سے قبل اعلیٰ سطح پر مشاورت کی گئی، جس میں صدر مملکت، چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ، آزاد کشمیر کی قیادت اور عسکری حکام شریک ہوئے، اور سب نے قومی مفاد میں یکجہتی کا مظاہرہ کیا۔
وزیراعظم نے امید ظاہر کی کہ خطے میں جلد امن قائم ہوگا، جس کے بعد معاشی حالات میں بہتری آئے گی، تاہم اس وقت حکومت ہر ممکن اقدام کر رہی ہے تاکہ عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کیا جا سکے
