اسلام آباد: وفاقی حکومت نے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں سبسڈی کو محدود کرتے ہوئے 830 ارب روپے تک رکھنے کا اہم فیصلہ کر لیا ہے، جبکہ عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کو بجلی کے نرخوں میں بروقت اضافے کی یقین دہانی بھی کرا دی گئی ہے۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عالمی سطح پر توانائی کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور حالیہ خلیجی جنگ کے اثرات نے معیشت پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق پاکستان نے آئی ایم ایف کے ساتھ جاری 7 ارب ڈالر کے توسیعی فنڈ سہولت پروگرام کے تحت طے شدہ شرائط کو پورا کرنے کے لیے توانائی کے شعبے میں اصلاحات کو تیز کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ عالمی منڈی میں تیل اور گیس کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات کو کم کرنے کے لیے بجلی کے بنیادی ٹیرف میں بروقت ایڈجسٹمنٹ ناگزیر ہو چکی ہے۔
حکومتی ذرائع کے مطابق نیا بنیادی بجلی ٹیرف 15 جنوری 2027 سے نافذ کیا جائے گا، جس کے تحت صارفین کو مرحلہ وار اضافی بوجھ برداشت کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس اقدام کا مقصد گردشی قرضے پر قابو پانا اور توانائی کے شعبے کو مالی طور پر مستحکم بنانا ہے۔
دوسری جانب بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری کا عمل ایک بار پھر تاخیر کا شکار ہو گیا ہے۔ آئیسکو، گیپکو اور فیسکو سمیت اہم کمپنیوں کی نجکاری اب 2027 کے اوائل تک مکمل ہونے کی توقع کی جا رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق نجکاری میں تاخیر توانائی کے شعبے میں اصلاحات کی رفتار کو متاثر کر سکتی ہے۔
اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ سبسڈی میں کمی اور بجلی کی قیمتوں میں اضافہ عوام پر اضافی مالی بوجھ ڈال سکتا ہے، تاہم حکومت کا مؤقف ہے کہ یہ اقدامات طویل المدتی معاشی استحکام کے لیے ناگزیر ہیں۔ حکومت کو درپیش چیلنج یہ ہوگا کہ وہ ایک طرف آئی ایم ایف کی شرائط پر عمل کرے اور دوسری جانب عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے متوازن حکمت عملی اپنائے۔
