پاکستان بزنس فورم نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے اور پٹرولیم لیوی میں غیر معمولی اضافے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ حالات میں پٹرولیم لیوی کو 160.61 روپے فی لیٹر مقرر کرنا عوام اور بزنس کمیونٹی کے ساتھ مذاق کے مترادف ہے۔
ملتان میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پی بی ایف پنجاب کے چیئرمین ملک طلعت سہیل نے کہا کہ ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے نے زرعی شعبے کو بری طرح متاثر کیا ہے، جس کے باعث بیجائی کا عمل تقریباً ناممکن ہوتا جا رہا ہے اور گندم کی پیداوار کو شدید خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔
انہوں نے حکومت کے حالیہ اقدامات کو متضاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایک طرف ٹارگٹڈ سبسڈی کی بات کی جاتی ہے، جبکہ چند ہی گھنٹوں بعد عوام پر مزید معاشی بوجھ ڈال دیا جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صرف 30 دنوں میں پٹرول کی قیمت میں 63 فیصد اور ڈیزل میں 75 فیصد اضافہ کسی بھی طرح مالیاتی نظم و ضبط نہیں کہلا سکتا۔
پاکستان بزنس فورم نے سوال اٹھایا کہ گزشتہ مالی سال میں عوام اور بزنس کمیونٹی کی جانب سے 11 کھرب روپے سے زائد ٹیکس دینے کے باوجود کیا ہنگامی حالات میں اس کا ایک فیصد بھی عوام پر خرچ نہیں کیا جا سکتا؟ فورم کے مطابق وفاقی بجٹ میں موجود ایمرجنسی فنڈ استعمال نہ کرنا تشویشناک ہے۔
پی بی ایف نے تجویز دی کہ اگر وفاقی اور صوبائی حکومتیں چاہتیں تو ترقیاتی فنڈز کو پٹرولیم سبسڈی میں منتقل کر کے عوام کو ریلیف دیا جا سکتا تھا، جبکہ صوبے باآسانی 300 ارب روپے تک کا پیکج بھی فراہم کر سکتے تھے۔
فورم نے خبردار کیا کہ ان فیصلوں کے نتیجے میں مہنگائی کا ایک نیا طوفان آئے گا اور روزمرہ اشیاء کی قیمتیں بڑھنے کے بعد جلد کم نہیں ہوں گی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پٹرولیم لیوی کو فوری طور پر ختم کر کے صفر کیا جائے جبکہ ڈیزل پر درآمدی ڈیوٹی اور کاربن لیوی کو کم از کم ایک ماہ کے لیے معطل کیا جائے۔
مزید تجاویز میں کہا گیا کہ دو ماہ کے لیے جی ایس ٹی کو 10 فیصد تک محدود کیا جائے اور بجلی کے بلوں میں فیول پرائس ایڈجسمنٹ کو بھی عارضی طور پر ختم کیا جائے تاکہ صارفین کو فوری ریلیف مل سکے۔
پی بی ایف کے چیئرمین پنجاب ملک طلعت سہیل کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں حکومت کو روایتی پالیسیوں سے ہٹ کر فیصلے کرنا ہوں گے کیونکہ پاکستان میں فی کس آمدنی اس سطح پر نہیں کہ عوام پٹرول اور ڈیزل کی موجودہ قیمتوں کا بوجھ برداشت کر سکیں۔
