اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے 3 اپریل 2026 تک کے زرمبادلہ کے ذخائر کی تازہ رپورٹ جاری کر دی ہے، جس کے مطابق ملک کے مجموعی ذخائر بڑھ کر 21 ارب 89 کروڑ 49 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئے ہیں، جو معیشت کیلئے ایک مثبت اشارہ قرار دیا جا رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق 3 اپریل کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران زرمبادلہ ذخائر میں مجموعی طور پر اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس سے مالیاتی استحکام میں بہتری کی نشاندہی ہوتی ہے۔
ترجمان اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق اس وقت کمرشل بینکوں کے پاس 5 ارب 49 کروڑ 46 لاکھ ڈالر کے ذخائر موجود ہیں، جو ملکی مالیاتی نظام کا اہم حصہ ہیں۔
مزید بتایا گیا کہ مرکزی بینک کے سرکاری ذخائر میں ایک کروڑ 90 لاکھ ڈالر کا اضافہ ہوا ہے، جس کے بعد اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے ذخائر 16 ارب 40 کروڑ ڈالر کی سطح تک پہنچ گئے ہیں۔
ماہرین کے مطابق زرمبادلہ کے ذخائر میں یہ اضافہ روپے کے استحکام، درآمدی ادائیگیوں میں آسانی اور بیرونی مالیاتی دباؤ کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے، تاہم مستقل بہتری کیلئے برآمدات میں اضافہ اور بیرونی سرمایہ کاری کو فروغ دینا بھی ضروری ہوگا۔
