پنجاب حکومت نے زرعی زمینوں کے انتقال پر انتقال فیس اور رجسٹری فیس میں بڑی کمی کرتے ہوئے اسے 3 فیصد سے کم کر کے 1 فیصد کر دیا ہے۔ اس حوالے سے اسٹیمپ ترمیمی آرڈیننس 2026 جاری کر دیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق اس اقدام کا بنیادی مقصد اسٹیمپ ڈیوٹی کے نظام کو سادہ اور شفاف بنانا اور شہری و دیہی علاقوں کے درمیان موجود فرق کو ختم کرنا ہے۔ نئے قانون میں “Assignable Deed” کی اصطلاح بھی شامل کی گئی ہے، جس سے مراد ایسی دستاویز ہے جس کے ذریعے کسی غیر منقولہ جائیداد کے حقوق یا مفادات دوسرے فرد کے نام منتقل کیے جا سکتے ہیں۔
نئے نظام کے تحت پہلے جہاں شہری علاقوں میں اسٹیمپ ڈیوٹی 1 فیصد اور دیہی علاقوں میں 3 فیصد تھی، اب دونوں کیلئے یکساں شرح 1 فیصد مقرر کر دی گئی ہے۔
آرڈیننس کے مطابق اگر جائیداد کی منتقلی 12 ماہ کے اندر کی جائے تو اسٹیمپ ڈیوٹی 1 فیصد ہوگی، جبکہ 12 ماہ کے بعد منتقلی کی صورت میں شرح بڑھا کر 2 فیصد کر دی جائے گی۔
حکومت کے مطابق اس تبدیلی کا مقصد جائیداد کی خرید و فروخت کے اخراجات کم کرنا، قانونی پیچیدگیوں میں کمی لانا اور مقدمہ بازی کے امکانات کو محدود کرنا ہے۔
ماہرین کے مطابق اس فیصلے سے ریئل اسٹیٹ سیکٹر میں سرمایہ کاری کو فروغ ملنے کی توقع ہے اور زمین و جائیداد کی خرید و فروخت میں آسانی پیدا ہوگی، جس سے مجموعی معاشی سرگرمیوں پر بھی مثبت اثر پڑ سکتا ہے۔
