آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن کے صنعت کاروں نے ملک کی معاشی صورتحال کو مستحکم بنانے کیلئے 2 ارب ڈالر کا فنڈ اسٹیٹ بینک آف پاکستان میں جمع کروانے پر غور شروع کر دیا ہے۔
لاہور سے جاری بیان میں اپٹما کے چیئرمین کامران ارشد نے کہا کہ صنعتکار حکومت کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں اور کسی بھی معاشی دباؤ کو بحران میں تبدیل نہیں ہونے دیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک کو درپیش مالی چیلنجز سے نمٹنے کیلئے مشترکہ حکمت عملی اپنائی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ امن مذاکرات کے بعد وہ وزیراعظم سے ملاقات کر کے اس معاملے کا پائیدار حل نکالنے کی کوشش کریں گے۔ ان کے مطابق اپٹما ہمیشہ “سب سے پہلے پاکستان” کے اصول پر کاربند رہی ہے اور ملکی برآمدات کے فروغ کیلئے اپنا کردار ادا کرتی رہے گی۔
دوسری جانب حکومتی معاشی پالیسی کے تحت یہ بھی بتایا گیا ہے کہ پاکستان نے متحدہ عرب امارات کا 2 ارب ڈالر کا قرض واپس کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جو رواں ماہ کے آخر میں ادا کیا جائے گا۔ یہ رقم پہلے سیف ڈپازٹ کی صورت میں پاکستان کے اکاؤنٹ میں موجود تھی۔
معاشی ماہرین کے مطابق صنعتکاروں کی جانب سے اس نوعیت کی پیش رفت ملکی مالیاتی اعتماد کو مضبوط بنانے اور بیرونی ادائیگیوں کے دباؤ کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے، تاہم اس کا حتمی انحصار حکومتی مالیاتی حکمت عملی پر ہوگا۔
