ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف نے کہا ہے کہ ڈالر سوئپ اور دیگر مالیاتی اقدامات کا مقصد امریکی اثاثوں کی بے ہنگم فروخت کو روکنا ہے۔
انہوں نے امریکا اور خلیجی ممالک کی مالیاتی صورتحال پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ امریکا میں بڑے سرمایہ کاروں کی جانب سے اثاثے فروخت کرنے کے عمل کو محدود کیا جا رہا ہے۔
باقر قالیباف کے مطابق امریکا میں ادارہ جاتی سرمایہ کاروں پر فروخت کی حد مقرر کی جا رہی ہے، اور اگر کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا تو مالیاتی راستے مزید محدود ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے خبردار کیا کہ موجودہ صورتحال میں بروقت فیصلے نہ کیے گئے تو عالمی مالیاتی نظام مزید دباؤ کا شکار ہو سکتا ہے۔
ایرانی اسپیکر نے امریکا کو ممکنہ معاشی بحران سے بھی خبردار کرتے ہوئے کہا کہ بڑھتی ہوئی کشیدگی عالمی معیشت پر منفی اثرات مرتب کر سکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق ایران کی جانب سے یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عالمی مالیاتی منڈیاں پہلے ہی غیر یقینی صورتحال کا شکار ہیں اور بڑی معیشتوں کے درمیان کشیدگی کے اثرات بڑھتے جا رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں
Add A Comment