امریکا نے چین کی ایک بڑی آئل ریفائنری ہینگلی پیٹروکیمیکل پر ایران سے کروڑوں ڈالرز کا تیل خریدنے کے الزام میں پابندیاں عائد کر دی ہیں، جس سے عالمی توانائی اور تجارت میں نئی کشیدگی پیدا ہو گئی ہے۔
امریکی محکمۂ خزانہ کے مطابق ہینگلی پیٹروکیمیکل ایران کے تیل کی اہم خریدار رہی ہے اور اس کے ذریعے ایرانی فوج کو مالی فائدہ پہنچا۔امریکا نے اس اقدام کے ساتھ تقریباً 40 شپنگ کمپنیوں اور جہازوں پر بھی پابندیاں لگائی ہیں، جن پر ایران کے مبینہ خفیہ تیل نیٹ ورک کا حصہ ہونے کا الزام ہے۔
دوسری جانب چین نے امریکی اقدام کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا عالمی تجارت کو سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے اور چینی کمپنیوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔رپورٹس کے مطابق چین اپنی توانائی کی ضروریات کا بڑا حصہ مشرقِ وسطیٰ سے حاصل کرتا ہے اور گزشتہ سال ایران کے 80 فیصد سے زائد برآمدی تیل کا خریدار رہا ہے۔
ادھر امریکا نے 13 اپریل سے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کر رکھی ہے، جس کا مقصد ایران کی تیل سے حاصل ہونے والی آمدنی کو محدود کرنا بتایا جا رہا ہے۔ماہرین کے مطابق یہ اقدامات امریکا، چین اور ایران کے درمیان معاشی و سیاسی کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں، جس کے اثرات عالمی تیل کی منڈی اور سپلائی چین پر بھی پڑنے کا خدشہ ہے
