حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں، جن کے مطابق ایکس ریفائنری لاگت میں کمی کے باوجود صارفین کیلئے قیمتیں بڑھا دی گئیں۔
دستاویز کے مطابق پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ بنیادی طور پر حکومتی ٹیکسز اور ان لینڈ فریٹ ایکوالائزیشن (آئی ایف ای) مارجن میں اضافے کے باعث ہوا۔
اعداد و شمار کے مطابق ہائی اسپیڈ ڈیزل پر آئی ایف ای مارجن میں 30 روپے 21 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا، جبکہ ان لینڈ فریٹ ایکوالائزیشن مارجن بڑھ کر 37 روپے 75 پیسے فی لیٹر ہو گیا ہے۔
اسی طرح پیٹرول پر لیوی ٹیکس میں بھی 26 روپے 77 پیسے فی لیٹر کا اضافہ کیا گیا، جس نے مجموعی قیمتوں کو اوپر لے جانے میں اہم کردار ادا کیا۔
دستاویز میں بتایا گیا ہے کہ ایک ہفتے کے دوران پیٹرول کی ایکس ریفائنری قیمت میں 3 روپے 14 پیسے فی لیٹر جبکہ ڈیزل کی ایکس ریفائنری قیمت میں 3 روپے 44 پیسے فی لیٹر کمی ہوئی، تاہم اس کمی کا فائدہ صارفین تک منتقل نہیں کیا گیا۔
یاد رہے کہ وفاقی حکومت نے حال ہی میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں 26 روپے 77 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا تھا، جس کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 393 روپے 35 پیسے اور ڈیزل کی قیمت 380 روپے 19 پیسے فی لیٹر مقرر ہو چکی ہے۔
ماہرین کے مطابق ٹیکسز اور فریٹ چارجز میں اضافے کی پالیسی مہنگائی میں مزید اضافے کا سبب بن سکتی ہے، جس کے اثرات ٹرانسپورٹ، خوراک اور دیگر بنیادی اشیاء کی قیمتوں پر بھی پڑیں گے۔
