اسلام آباد/پیرس : فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (FATF) کے حالیہ اجلاس میں پاکستان نے ایک بار پھر عالمی سطح پر سفارتی برتری حاصل کر لی ہے۔ بھارت کی بھرپور لابنگ اور منفی پروپیگنڈا کے باوجود پاکستان کو دوبارہ گرے لسٹ میں شامل کرنے کی کوشش ناکام ہو گئی۔ FATF نے پاکستان کو صرف رپورٹنگ زمرے میں رکھنے کا فیصلہ کیا، جسے تجزیہ کار ایک بڑی سفارتی کامیابی قرار دے رہے ہیں۔
اجلاس میں بھارت کے وفد نے پاکستان کے خلاف سخت موقف اختیار کرتے ہوئے اسے دہشتگردی کی مالی معاونت کے الزامات میں گھیرنے کی کوشش کی، تاہم چین نے ایک بار پھر پاکستان کے حق میں مضبوط مؤقف اختیار کیا، اور بھارت کی کوششوں کو ناکام بنایا۔ چین کے ساتھ ساتھ ترکی اور جاپان نے بھی پاکستان کا بھرپور دفاع کیا، جس کے باعث بھارت عالمی محاذ پر ایک بار پھر خفت کا شکار ہوا۔
یاد رہے کہ پاکستان نے 2018 سے لے کر اکتوبر 2022 تک FATF کی گرے لسٹ میں شامل رہنے کے دوران کئی اہم قانونی، مالیاتی اور انتظامی اصلاحات کیں، جن میں منی لانڈرنگ کی روک تھام، دہشتگردوں کی مالی معاونت کے خلاف قوانین کا نفاذ، اور عالمی معیارات پر پورا اترنے والے اقدامات شامل ہیں۔
اکتوبر 2022 میں FATF نے پاکستان کو ان اقدامات کی بنیاد پر گرے لسٹ سے نکال دیا تھا۔
تازہ فیصلے سے یہ واضح ہو گیا ہے کہ عالمی برادری اب پاکستان کی کوششوں کو تسلیم کر رہی ہے، اور بھارت کی جانب سے کی جانے والی منفی سفارتکاری کا اثر زائل ہو چکا ہے۔
بین الاقوامی سطح پر پاکستان کا مؤقف تقویت پکڑ رہا ہے کہ وہ دہشتگردی کے خلاف ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر اپنے فرائض ادا کر رہا ہے۔
FATF ایک عالمی ادارہ ہے جس میں 37 ممالک اور تنظیمیں شامل ہیں، جن میں امریکہ، برطانیہ، چین، بھارت، ترکی، یورپی یونین اور خلیج تعاون کونسل (GCC) شامل ہیں۔ اس کا بنیادی مقصد دنیا بھر میں مالیاتی جرائم، ٹیرر فنانسنگ، اور منی لانڈرنگ کی روک تھام کو یقینی بنانا ہے۔
وزارتِ خارجہ اور وزارتِ خزانہ کے ذرائع کے مطابق پاکستان آئندہ بھی FATF کے ساتھ مکمل تعاون جاری رکھے گا اور رپورٹنگ زمرے میں رہتے ہوئے اصلاحات کا تسلسل برقرار رکھے گا۔
