اسرائیلی دفاعی افواج (آئی ڈی ایف) کی جانب سے حالیہ دنوں ایک ایسا نقشہ جاری کیا گیا جس کا مقصد ایران کے میزائل پروگرام کی طاقت اور ان کی ممکنہ رینج کو دنیا کے سامنے لانا تھا، تاہم یہ اقدام بھارت میں ایک نئے تنازعے کا باعث بن گیا۔
نقشے کی اشاعت نے سوشل میڈیا پر ایک بھونچال پیدا کر دیا، خصوصاً بھارتی صارفین میں، جنہوں نے اس میں بھارت کی سرحدوں کی مبینہ غلط نمائندگی پر شدید ردعمل دیا۔
اسرائیلی فوج نے یہ نقشہ ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر شائع کیا، جس میں ایران کے میزائلوں کی مار کی حدود دکھائی گئیں تھیں۔
ان میزائلوں کو افغانستان، پاکستان، بھارت، چین، سعودی عرب اور حتیٰ کہ یوکرین تک پہنچنے کی صلاحیت کے طور پر پیش کیا گیا۔ اس کے ساتھ یہ پیغام بھی دیا گیا کہ "ایران ایک عالمی خطرہ ہے۔ اسرائیل اس کا پہلا ہدف نہیں بلکہ یہ سلسلے کا آغاز ہے، اور ہمارے پاس اس کے خلاف کارروائی کے سوا کوئی راستہ نہیں بچا۔”
تاہم نقشے کے مندرجات نے بھارت کے کئی شہریوں کو ناراض کر دیا۔ کئی افراد نے دعویٰ کیا کہ اس گرافک میں جموں و کشمیر کو پاکستان کے ساتھ دکھایا گیا ہے، جو کہ بھارت کے لیے ایک حساس اور متنازع معاملہ ہے۔
اس پر سب سے پہلے ایک صارف نے نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ نقشے میں جموں و کشمیر کو پاکستانی علاقہ ظاہر کیا گیا ہے، جو بھارت کی خودمختاری اور علاقائی دعوؤں کے منافی ہے۔ کچھ صارفین نے یہ بھی کہا کہ شمال مشرقی ریاستوں کو نیپال اور لداخ کو چین کا حصہ دکھایا گیا ہے۔
اس تنازعے پر کئی بھارتی صارفین نے نہ صرف پوسٹ پر تبصرے کیے بلکہ اسرائیلی فوج سے اس نقشے کو فوری طور پر حذف کرنے اور باقاعدہ معافی مانگنے کا مطالبہ بھی کیا۔
ایک معروف بھارتی اکاؤنٹ "انڈین رائٹ ونگ کمیونٹی” نے تبصرہ کرتے ہوئے لکھا، "اب شاید آپ کو اندازہ ہو گیا ہوگا کہ انڈیا ہمیشہ غیر جانبدار کیوں رہتا ہے۔ سفارتکاری میں مستقل دوست نہیں ہوتے۔”
اس پر آئی ڈی ایف نے متعدد بار ردعمل دیا اور چھ مختلف مواقع پر مختلف بھارتی صارفین کو جواب دیتے ہوئے معذرت کی۔
انہوں نے تسلیم کیا کہ نقشہ سرحدوں کی درست عکاسی کرنے میں ناکام رہا اور اس سے اگر کسی کی دل آزاری ہوئی ہے تو وہ اس پر معذرت خواہ ہیں۔
ایک بیان میں کہا گیا، "یہ تصویر محض خطے کی عمومی جغرافیائی نمائندگی تھی، جس میں سرحدی تفصیل پر توجہ نہیں دی گئی، ہم اس کوتاہی پر افسوس کا اظہار کرتے ہیں۔”
تاہم معافی کے باوجود بہت سے صارفین مطمئن نہ ہوئے اور ان کا مطالبہ تھا کہ آئی ڈی ایف اس پوسٹ کو مکمل طور پر ڈیلیٹ کرے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ تاحال یہ پوسٹ حذف نہیں کی گئی ہے، جس پر اعتراضات کا سلسلہ جاری ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ بھارت اور اسرائیل کے درمیان نقشے کی حساسیت پر کوئی تنازع سامنے آیا ہو۔ اکتوبر 2024 میں بھی اسرائیل کی آفیشل ویب سائٹ پر ایسا ہی ایک نقشہ موجود تھا جس میں جموں و کشمیر کو پاکستان کا حصہ ظاہر کیا گیا تھا۔
جب اس پر بھارت میں ردعمل سامنے آیا تو اسرائیلی سفارتخانے نے اس "غلطی” کا اعتراف کرتے ہوئے اسے ویب ایڈیٹر کی لاپرواہی قرار دیا اور نقشے کو ویب سائٹ سے ہٹا دیا گیا تھا۔
موجودہ معاملے سے یہ واضح ہوتا ہے کہ نقشہ سازی جیسے حساس موضوعات بین الاقوامی تعلقات میں گہرے اثرات ڈال سکتے ہیں، خاص طور پر ایسے ممالک کے درمیان جہاں علاقائی تنازعات اور سفارتی نزاکتیں پہلے سے موجود ہوں۔
بھارت میں نقشے کی غلط نمائندگی کو نہ صرف قومی خودمختاری پر حملہ سمجھا جاتا ہے بلکہ عوامی سطح پر اسے سخت جذباتی ردعمل کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔
