قطر کے دارالحکومت دوحہ میں واقع امیری دیوان میں خلیج تعاون کونسل (GCC) کے رکن ممالک کے وزرائے خارجہ نے قطری امیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی سے ملاقات کی۔
اس موقع پر سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان اور خلیجی وزرائے خارجہ کے ہمراہ جی سی سی کے سیکریٹری جنرل جاسم البدیوی بھی موجود تھے۔
اس اعلیٰ سطحی اجلاس کا بنیادی مقصد حالیہ خطے میں پیدا ہونے والی کشیدگی پر غور و فکر اور مشترکہ لائحہ عمل اختیار کرنا تھا۔
ملاقات کے دوران خلیجی وزرائے خارجہ نے ایران کی طرف سے قطر کی خودمختاری کے خلاف کی جانے والی جارحانہ کارروائی کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔ وزرائے خارجہ نے اس حملے کو بین الاقوامی قوانین اور پرامن ہمسائیگی کے اصولوں کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا۔
اُن کا کہنا تھا کہ ایران کی جانب سے کیا جانے والا یہ اقدام کسی بھی صورت میں قابلِ قبول نہیں، اور نہ ہی اس کا کوئی جواز پیش کیا جا سکتا ہے۔
قطری امیر اور دیگر شریک وزرائے خارجہ نے واضح کیا کہ اس طرح کے غیر ذمہ دارانہ اقدامات نہ صرف علاقائی امن کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں بلکہ خلیجی ممالک کے اندرونی معاملات میں مداخلت کے مترادف ہیں، جسے برداشت نہیں کیا جائے گا۔
سب نے قطر کے ساتھ مکمل اظہار یکجہتی کرتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا کہ خلیج تعاون کونسل ایک متحد پلیٹ فارم ہے جہاں ہر رکن ملک کی خودمختاری اور سلامتی کا تحفظ اولین ترجیح ہے۔
ملاقات میں صرف خطے کی سیکیورٹی صورتحال ہی زیر بحث نہیں رہی بلکہ خلیج تعاون کونسل کے اندرونی معاملات، رکن ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے تعاون اور مشترکہ مفادات پر بھی گفتگو کی گئی۔
شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ خلیجی ممالک کے مابین موجودہ ہم آہنگی کو مزید مضبوط بنانا وقت کی ضرورت ہے تاکہ عوام کو ترقی، خوشحالی اور استحکام کی مزید سہولیات فراہم کی جا سکیں۔
قطری امیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی نے اس موقع پر خلیجی اتحاد کی اہمیت کو اجاگر کیا اور کہا کہ موجودہ عالمی اور علاقائی حالات میں جی سی سی کے رکن ممالک کو پہلے سے زیادہ قریب آ کر اپنی پالیسیوں کو مربوط اور ہم آہنگ کرنا ہوگا۔
اُن کا کہنا تھا کہ خطے میں امن، ترقی اور خودمختاری کا تحفظ صرف اس وقت ممکن ہے جب خلیجی ممالک ایک آواز ہو کر دشمن عناصر کی سازشوں کا مقابلہ کریں۔
