چین کے شہر چھنگڈاؤ میں منعقدہ شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کے وزرائے دفاع کے اہم اجلاس میں پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے ایک مضبوط، مدلل اور خطے کی ترجمانی پر مبنی خطاب کرتے ہوئے امن، استحکام اور کثیرالجہتی تعاون کے عزم کو مؤثر انداز میں اجاگر کیا۔
انہوں نے دنیا کو درپیش مشترکہ خطرات، خصوصاً دہشتگردی، علیحدگی پسندی اور انتہا پسندی کے خلاف متحدہ اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔ خواجہ آصف نے واضح کیا کہ پاکستان دہشتگردی کے خلاف نہ صرف واضح مؤقف رکھتا ہے بلکہ میدانِ عمل میں بھی صفر برداشت کی پالیسی پر کاربند ہے۔ انہوں نے بھارتی نیول افسر کلبھوشن یادیو کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ بھارت خطے میں دہشتگردی کے نیٹ ورک کو معاونت فراہم کر رہا ہے۔
خواجہ آصف نے جعفر ایکسپریس اور کشمیر میں ہونے والی دہشتگردی کی کارروائیوں کا بھی حوالہ دیتے ہوئے ان حملوں کے پیچھے موجود عناصر کو عالمی سطح پر بے نقاب اور جوابدہ بنانے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے اسلامی جمہوریہ ایران پر اسرائیلی حملوں کی شدید مذمت کی اور سفارتی حل، برداشت اور مکالمے کے ذریعے کشیدگی کے خاتمے پر زور دیا۔
غزہ کے انسانی بحران کو اجاگر کرتے ہوئے خواجہ آصف نے عالمی برادری سے مستقل جنگ بندی اور بلا رکاوٹ انسانی امداد کی فراہمی کا مطالبہ کیا۔ افغانستان کی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہاں امن صرف افغان عوام ہی نہیں بلکہ پورے خطے کے لیے ناگزیر ہے۔
کشمیر اور فلسطین جیسے دیرینہ تنازعات کے حل کے لیے مذاکرات اور بین الاقوامی ضمیر کو بیدار کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ خواجہ آصف نے سائبر سیکیورٹی، منشیات کی روک تھام اور انتہا پسند نظریات سے نمٹنے کے لیے SCO کی کوششوں کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ایک ذمہ دار رکن ملک کے طور پر خطے میں پائیدار امن اور خوشحالی کے فروغ کے لیے ہمیشہ فعال اور تعمیری کردار ادا کرتا رہے گا۔
