ویسٹ انڈیز کے خلاف بارباڈوس میں جاری پہلے ٹیسٹ میچ کے پہلے دن کے اختتام پر جب آسٹریلوی اوپننگ بیٹر عثمان خواجہ کو انٹرویو کے لیے بلایا گیا، تو انہوں نے آسٹریلوی اسپورٹس ریڈیو اسٹیشن "ایس ای این” (SEN) کو انٹرویو دینے سے صاف انکار کر دیا۔
یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب عثمان خواجہ نے گراؤنڈ میں موجود کمنٹیٹرز سے بات کرنے کا ارادہ کیا لیکن جیسے ہی انہوں نے مائیکروفون پر SEN کا لوگو دیکھا، وہ ہاتھ کے اشارے سے معذرت کرتے ہوئے واپس چل دیے۔
خواجہ کا یہ مؤقف اس وقت اور بھی واضح ہو گیا جب پس منظر میں یہ بات سامنے آئی کہ اسی ریڈیو اسٹیشن نے معروف صحافی پیٹر لیلور کو صرف اس وجہ سے فارغ کر دیا تھا کہ وہ فلسطینی عوام کے ساتھ کھل کر ہمدردی اور حمایت کا اظہار کرتے تھے۔
لیلور، جو کئی برسوں سے SEN کے لیے کرکٹ کمنٹری کرتے آ رہے تھے، کو رواں سال فروری میں اس وقت برطرف کر دیا گیا جب وہ سری لنکا کے دورے پر تھے، وہی سیریز جس میں عثمان خواجہ نے اپنے کیریئر کی سب سے بڑی اننگز 232 رنز بنائی تھی۔
پیٹر لیلور نے اپنی برطرفی کے بعد ایک بیان میں کہا، "میں نے خود یہ محسوس کیا ہے کہ میرے کچھ یہودی آسٹریلوی دوست اس صورتحال سے پریشان ہیں، اور ان کی آواز میں خوف سنا ہے۔
یہ واقعی افسوسناک ہے۔ لیکن غزہ کی صورتحال بھی کچھ کم نہیں۔” انہوں نے واضح کیا کہ ان کی حمایت انسانی بنیادوں پر ہے، کسی قوم یا مذہب کے خلاف نہیں۔
عثمان خواجہ نے تب بھی اس فیصلے پر کھل کر تنقید کی تھی۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر اپنے ایک پیغام میں لکھا، ’’غزہ کے مظلوموں کے ساتھ کھڑے ہونا نہ تو یہودیت کے خلاف ہے، نہ میرے ان یہودی بھائیوں اور بہنوں سے اختلاف، بلکہ یہ مکمل طور پر اسرائیلی حکومت کے ظالمانہ اقدامات کے خلاف ہے۔ یہ معاملہ صرف اور صرف انسانی حقوق اور انصاف کا ہے۔‘‘
یاد رہے کہ خواجہ کئی ماہ سے غزہ میں جاری انسانی بحران پر اپنی آواز بلند کرتے آ رہے ہیں۔ انہوں نے 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے حملے کے بعد اسرائیل کی 21 ماہ سے جاری شدید فوجی کارروائی کے خلاف کھل کر بات کی ہے، جس میں ہزاروں فلسطینی شہری جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔
خواجہ نے کرکٹ کے بین الاقوامی ادارے (آئی سی سی) کے ساتھ بھی اس وقت محاذ آرائی کی تھی جب وہ اپنے بیٹنگ گیئر پر ’امن‘ سے متعلق پیغامات یا نشان لگانا چاہتے تھے۔ آئی سی سی نے اس کی اجازت نہیں دی اور اسے ’سیاسی‘ قرار دیا، اگرچہ ان پیغامات کا کوئی مخصوص سیاسی پہلو نہیں تھا۔
SEN واحد آسٹریلوی ریڈیو براڈکاسٹر ہے جو اس ویسٹ انڈیز سیریز کو براہِ راست میدان سے کوریج دے رہا ہے، جب کہ ABC ریڈیو مالی بچت کے لیے سٹوڈیوز سے ٹی وی اسکرین پر میچز کی کمنٹری کر رہا ہے، اور فاکس اسپورٹس مقامی پروڈکشن کا ٹی وی فیڈ استعمال کر رہا ہے۔
عمومی طور پر دن کے بہترین کھلاڑی کو اختتامی دن کے بعد ریڈیو انٹرویو کے لیے چُنا جاتا ہے۔ لیکن خواجہ کو پچھلے کئی مہینوں سے اس عمل میں شامل نہیں کیا گیا، جیسے کہ سری لنکا ٹیسٹ یا ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کے فائنل میں۔
تاہم بارباڈوس ٹیسٹ کے پہلے دن، جب خواجہ نے مشکل حالات میں آسٹریلیا کے لیے اہم 47 رنز بنائے تو ٹیم کے میڈیا منیجر کول ہچکاک کی ہدایت پر وہ کمنٹیٹر بھارت سندریسن اور ایڈم کولنز کے پاس انٹرویو کے لیے گئے، مگر SEN کا مائیک دیکھتے ہی انکار کر دیا۔
عثمان خواجہ اور کرکٹ آسٹریلیا کی جانب سے اس واقعے پر کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا، تاہم پیٹر لیلور نے جو اب اس دورے پر ایک آزاد صحافی کے طور پر موجود ہیں، خواجہ کے رویے کو سراہا۔
انہوں نے کہا، ’’عثمان خواجہ ایک اصول پسند انسان ہیں، اور جب مجھے ملازمت سے برخاست کیا گیا تو ان کی حمایت میرے لیے باعثِ عزت تھی، اور آج بھی میں ان کے ساتھ کا شکر گزار ہوں۔‘‘
