سوات:خیبرپختونخوا کے سیاحتی مقام سوات میں قدرت کی بے رحم موجوں نے لمحوں میں ہنستے بستے چہروں کو خاموش کر دیا۔ موسلادھار بارش کے بعد دریائے سوات میں طغیانی آئی، جس کے باعث 7 مختلف مقامات پر سیاحت کے لیے آئے خاندان دریا کی بے رحم موجوں میں بہہ گئے۔ اب تک 9 افراد کی لاشیں نکالی جا چکی ہیں جبکہ 55 سے زائد افراد کو ریسکیو کر لیا گیا، لیکن 20 سے زیادہ افراد کی تلاش جاری ہے جن میں بیشتر بچے شامل ہیں۔
ریسکیو حکام کے مطابق صبح 8 بجے کے قریب حادثے کی اطلاع ملی، جس پر فوری طور پر امدادی ٹیمیں روانہ کی گئیں، تاہم مقامی افراد اور متاثرہ سیاحوں نے تاخیر کا الزام عائد کیا ہے۔ ایک خاندان کے غمزدہ فرد نے بتایا کہ ان کے 10 پیارے پانی کی نذر ہو گئے ،صرف ایک خاتون کی لاش ملی، باقی 9 بچے تاحال لاپتا ہیں۔ "ہم دریا کنارے چائے پی رہے تھے، بچے تصویریں لے رہے تھے، اور پھر اچانک ریلہ آیا. ہماری آنکھوں کے سامنے سب کچھ بہہ گیا۔
متاثرہ سیاح نے ریسکیو اداروں پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اطلاع کے باوجود ٹیمیں دو گھنٹے بعد آئیں، ہمارے بچے ان کی موجودگی میں ڈوبے، لیکن کوئی انہیں نہ بچا سکا۔
دوسری جانب ڈپٹی کمشنر سوات نے میڈیا سے گفتگو میں واقعے پر افسوس کا اظہار کیا اور بتایا کہ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے پہلے ہی دفعہ 144 نافذ تھی، جس کے تحت دریا کے قریب جانے اور نہانے پر پابندی عائد کی گئی تھی، مگر سیاح ہدایات کو نظر انداز کرتے ہیں، جو بعض اوقات جان لیوا ثابت ہوتا ہے۔
ریسکیو 1122، مقامی رضاکار اور پاک فوج کے اہلکار لاپتا افراد کی تلاش میں مصروف ہیں، جب کہ دریا کا پانی تاحال خطرناک حد تک بلند ہے، جس کے باعث تلاش میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ متاثرہ خاندانوں کی آہیں فضا میں گونج رہی ہیں اور مقامی افراد بھی اس سانحے پر اشکبار ہیں۔
