ملائیشیا کے وزیرِ اعظم انور ابراہیم نے اعلان کیا ہے کہ تھائی لینڈ اور کمبوڈیا نے اپنے سرحدی تنازعے میں فائر بندی پر غیر مشروط اتفاق کر لیا ہے۔ یہ فیصلہ 28 جولائی 2025 کی آدھی رات سے نافذ العمل ہو گا اور اس کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کم ہونے کی امید ہے۔ دونوں ممالک کی قیادت نے اس جنگ کے خاتمے کے لیے مصالحتی مذاکرات کیے، جو ملائیشیا کی میزبانی میں ہوئے۔ اس موقع پر امریکہ اور چین کے سفیروں نے بھی مبصر کے طور پر مذاکرات میں شرکت کی۔
یہ جنگ سرحد پر بارودی سرنگ پھٹنے کے بعد شروع ہوئی تھی، جس کے نتیجے میں 27 جولائی کو پانچ تھائی فوجی زخمی ہوئے تھے۔ اس کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان ایک دوسرے پر حملے کرنے کا الزام عائد کیا گیا اور جھڑپوں کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا۔ ان جھڑپوں میں کم از کم 35 افراد جان کی بازی ہار گئے اور دو لاکھ 60 ہزار سے زیادہ افراد بے گھر ہو گئے۔
تھائی لینڈ اور کمبوڈیا کے درمیان یہ جھڑپیں ایک قدیم سرحدی تنازعے کی وجہ سے ہوئی ہیں، جس کی جڑیں 1907 کے فرانسیسی نقشے میں ہیں۔ اس تنازعے کے مرکزی نقطے میں 11ویں صدی کا پریاہ ویہیئر مندر ہے، جس پر دونوں ممالک کے درمیان شدید اختلافات ہیں۔ عالمی عدالت نے 1962 میں اس مندر اور اس کے آس پاس کی زمین کو کمبوڈیا کا حصہ قرار دیا تھا، لیکن تھائی لینڈ ابھی بھی اس علاقے پر اپنا دعویٰ کرتا ہے۔
تھائی لینڈ اور کمبوڈیا کی حکومتوں نے اس تنازعے کو ختم کرنے کے لیے مذاکرات شروع کیے۔ ملائیشیا کے وزیرِ اعظم انور ابراہیم کی قیادت میں ہونے والے مذاکرات میں دونوں ممالک کے وزرائے اعظم نے فوری اور غیر مشروط جنگ بندی پر اتفاق کیا۔ ان مذاکرات میں چین اور امریکہ کے نمائندے بھی شامل ہوئے، جو اس بات پر زور دے رہے تھے کہ کشیدگی کا مزید بڑھنا عالمی امن کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔
ملائیشیا کے وزیرِ اعظم انور ابراہیم نے اس تاریخی معاہدے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ "کمبوڈیا اور تھائی لینڈ دونوں نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ 28 جولائی 2025 کی آدھی رات سے فائر بندی نافذ العمل ہو گی۔” انور ابراہیم نے اس بات کا بھی ذکر کیا کہ یہ معاہدہ صرف ایک جنگ بندی نہیں بلکہ علاقے میں امن اور استحکام کے قیام کی طرف ایک اہم قدم ہے۔
اس جنگ بندی معاہدے کے بعد، عالمی برادری کی جانب سے تھائی لینڈ اور کمبوڈیا پر مزید دباؤ ڈالا گیا ہے تاکہ اس معاہدے کو عملی جامہ پہنایا جا سکے۔ امریکہ نے اس معاہدے کے بعد تھائی لینڈ اور کمبوڈیا کے رہنماؤں پر زور دیا کہ وہ اس جنگ کے نتیجے میں انسانی بحران کو روکیں اور اپنے اختلافات کو پرامن طریقے سے حل کریں۔ امریکہ نے خبردار کیا تھا کہ اگر کشیدگی برقرار رہی تو دونوں ملکوں کے ساتھ تجارتی معاہدوں پر دوبارہ نظر ثانی کی جا سکتی ہے۔
چین نے بھی اس مذاکرات میں اہم کردار ادا کیا اور دونوں ممالک کی قیادت کو اس بات پر قائل کیا کہ تنازعے کو مزید بڑھانے سے علاقے میں عدم استحکام پیدا ہو گا۔ چین کے سفیر نے کہا کہ اس بحران کا حل عالمی امن کے لیے ضروری ہے، اور ہمیں اس بات کو یقینی بنانا ہو گا کہ یہ جنگ مزید نہ بڑھے۔
یہ جنگ بندی، اگر کامیاب ہوتی ہے، تو یہ دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کو بہتر بنانے اور سرحدی تنازعے کو حل کرنے کے لیے ایک سنہری موقع ثابت ہو سکتی ہے۔ اس معاہدے کے بعد، تھائی لینڈ اور کمبوڈیا کے رہنماؤں نے اپنے اپنے عوام کے سامنے ایک مشترکہ اعلامیہ پڑھا، جس میں فائر بندی پر اتفاق کیا گیا اور اس بات کا اعادہ کیا گیا کہ دونوں ملکوں کو اس جنگ کے خاتمے کے لیے مسلسل تعاون کرنا ہوگا۔
تھائی لینڈ اور کمبوڈیا کے درمیان یہ مذاکرات ایک طویل عرصے کے بعد ہونے والے ہیں، اور ان مذاکرات کا مقصد صرف جنگ بندی نہیں بلکہ دیرپا امن کا قیام ہے۔ ان مذاکرات میں کمبوڈیا کے وزیرِ اعظم ہن منیت اور تھائی لینڈ کے قائم مقام وزیرِ اعظم پھومتھم ویچایچائی نے فائر بندی پر دستخط کیے، اور اس پر پُرامن انداز میں عمل درآمد کی خواہش کا اظہار کیا۔
یہ تنازعہ تھائی لینڈ اور کمبوڈیا کے درمیان تاریخی طور پر ایک پیچیدہ معاملہ رہا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان 1907 کے فرانسیسی نقشے کو لے کر مسلسل اختلافات رہے ہیں، اور اس سرحدی تنازعے کے باعث متعدد جنگیں اور جھڑپیں ہو چکی ہیں۔ تاہم، عالمی عدالت کی طرف سے اس مندر کو کمبوڈیا کا حصہ قرار دینے کے باوجود تھائی لینڈ نے اس فیصلے کو تسلیم نہیں کیا ہے، جس کے باعث دونوں ملکوں کے تعلقات میں کشیدگی پیدا ہوئی ہے۔
یہ فائر بندی نہ صرف تھائی لینڈ اور کمبوڈیا کے لیے بلکہ پورے خطے اور عالمی امن کے لیے ایک اہم پیش رفت ہے۔ ملائیشیا کی قیادت میں ہونے والی یہ مذاکرات عالمی برادری کے لیے ایک پیغام ہے کہ پیچیدہ مسائل کو بھی پرامن طریقے سے حل کیا جا سکتا ہے، بشرطیکہ تمام فریقین کی نیک نیتی اور مشترکہ مفادات پر توجہ مرکوز کی جائے۔
