اسلام آباد: سابق وزیر اعظم عمران خان کی بہن علیمہ خان نے اپنے بھائی کے مقدمات کے حوالے سے حیران کن انکشافات کیے ہیں۔ سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے علیمہ خان نے کہا کہ عمران خان کے کیس کی سماعت محض 30 سیکنڈز کے لیے کی گئی اور سماعت کی تاریخ 12 اگست کو دے دی گئی، کیونکہ عدالت کے پاس اس سے پہلے کوئی وقت نہیں تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں یہ محسوس ہو رہا ہے کہ انصاف کا عمل روکا جا رہا ہے اور عدالت کے فیصلے میں تاخیر کی جا رہی ہے۔
علیمہ خان نے سپریم کورٹ میں ہونے والی کارروائی کے حوالے سے مزید تفصیلات دیں، انہوں نے کہا کہ اگرچہ سلمان اکرم راجہ، عمران خان کے وکیل، ان کی نمائندگی کر رہے تھے، مگر عدالت نے 24 گھنٹے کے اندر سماعت کا وقت دے دیا اور کیس کی تاریخ ملتوی کر دی۔ علیمہ خان کا کہنا تھا کہ عدالت میں صرف 30 سیکنڈ کی سماعت کی گئی، جس کے بعد کیس کی مزید تاریخ دے دی گئی۔
انہوں نے کہا کہ "ہمیں علم تھا کہ سلمان صفدر ملک سے باہر ہیں، اس لیے انہوں نے ہمیں ایک غیر معقول وقت دیا تاکہ ہمارا وکیل پیش نہ ہو سکے، لیکن سلمان اکرم راجہ نے اس صورتحال کو کامیابی سے نمٹایا۔”
علیمہ خان نے اپنے بھائی عمران خان کی جیل میں ملاقاتوں پر بھی بات کی اور کہا کہ جیل انتظامیہ ان کے وکلا اور اہل خانہ کو ملاقات کی اجازت نہیں دیتی۔ "ہمیں صرف ایک وکیل کو ملاقات کی اجازت دی جاتی ہے، جبکہ جیل کے اندر ہمارے وکلا کی ٹیم کو داخل ہونے کی اجازت نہیں ہوتی، اور نہ ہی اہل خانہ کو ملاقات کی اجازت دی جاتی ہے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ "پچھلی سماعت میں پراسیکیوشن کے 12 وکلا اور دیگر عملہ جیل میں داخل ہونے کی اجازت لے کر آتے ہیں، لیکن ہمارے وکلا کو اجازت نہیں دی جاتی، جو کہ انصاف کے عمل میں مداخلت کے مترادف ہے۔”
علیمہ خان نے یہ بھی بتایا کہ جیل میں ملاقاتوں اور مقدمات کی سماعت کے دوران جج کی ہدایات کے باوجود جیل انتظامیہ حکومتی احکامات پر عمل نہیں کر رہی۔ "جج نے کہا تھا کہ اہل خانہ اور وکلا کو بلایا جائے، لیکن جیل انتظامیہ اس پر عمل نہیں کررہی۔
علیمہ خان نے کہا کہ ان کی کوشش یہ ہے کہ عمران خان کو انصاف ملے اور ٹرائل کے تمام تقاضے پورے کیے جائیں، کیونکہ موجودہ حالات میں اوپن ٹرائل کا کوئی امکان نہیں۔ ان کا کہنا تھا، "ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ٹرائل کے بنیادی تقاضے پورے نہیں ہو رہے ہیں۔ ہمیں ایک منصفانہ اور شفاف ٹرائل چاہیے۔
اسی دوران سپریم کورٹ میں عمران خان کی 9 مئی کے مقدمات سے متعلق ضمانت کی اپیلوں کی سماعت بھی ملتوی کر دی گئی۔ چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے سماعت کے دوران عمران خان کے وکیل سلمان اکرم راجہ کی درخواست پر سماعت ملتوی کرنے کا فیصلہ کیا۔ بعد ازاں عدالت نے عمران خان کی ضمانت کی اپیلوں کی سماعت 12 اگست تک ملتوی کر دی۔
