لندن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر لندن کے میئر صادق خان پر شدید تنقید کی ہے، اور یہ تنقید برطانوی وزیراعظم کیئر سٹارمر کی موجودگی میں کی گئی۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب ٹرمپ لندن میں ایک پریس کانفرنس میں موجود تھے، جہاں صحافیوں نے ان سے لندن کے دورے کے بارے میں سوال کیا۔
صحافی کے سوال کے جواب میں، ٹرمپ نے کہا کہ میں لندن کے میئر کا فین نہیں ہوں، میرے خیال میں وہ بہت برا کام کر چکےہیں۔ اس کے بعد ٹرمپ نے مزید کہا، لندن کا میئر ایک برا شخص ہے۔ ان تبصروں پر برطانوی وزیراعظم کیئر سٹارمر نے فوری طور پر مداخلت کی اور کہا کہ وہ میرے دوست ہیں۔
ٹرمپ نےسٹارمرکی بات کونظرانداز کرتے ہوئے اپنی تنقید جاری رکھی اور کہا کہ مجھے لگتا ہے کہ صادق خان نے خراب کام کیا، لیکن میں لندن ضرور جاؤں گا۔
یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ ٹرمپ نے صادق خان پر تنقید کی ہو۔ اس سے پہلے، ٹرمپ نے 2016 میں منتخب ہونے کے بعد صادق خان کو "بری طرح ہارنے والا اور بے وقوف” قرار دیا تھا۔ اس کے علاوہ، صادق خان نے ٹرمپ کے مسلم ممالک کے شہریوں پر پابندی کے حوالے سے سخت ردعمل ظاہر کیا تھا، جس کے بعد ٹرمپ نے انہیں "دہشت گردی کے حوالے سے بہت برا کام کرنے کا الزام لگایا تھا۔
صادق خان نے حالیہ دنوں میں ٹرمپ کے بارے میں کہا تھا کہ وہ انہیں نسلی، مذہبی اور رنگ کی بنیاد پر نشانہ بناتے ہیں۔ تاہم، 2024 کے صدارتی انتخابات کے حوالے سے خان نے کہا تھا کہ امریکی عوام نے اپنا فیصلہ دے دیا ہے اور ہمیں اس کا احترام کرنا ہوگا۔
صادق خان کے ترجمان نے اس تنقید کے بعد کہا کہ انہیں خوشی ہے کہ ٹرمپ لندن آ رہے ہیں اور وہ اس موقع پر لندن کے تنوع اور طاقتور سماجی تعلقات کو دکھائیں گے۔ انہوں نے کہا، وہ دیکھیں گے کہ تنوع ہمیں طاقتور بناتا ہے، کمزور نہیں۔
ٹرمپ اور صادق خان کے درمیان اس لفظی جنگ کے باوجود، یہ واضح ہے کہ دونوں شخصیات کا تعلق مستقبل میں بھی کشیدہ رہنے کا امکان ہے۔ ٹرمپ کے حوالے سے صادق خان کی سیاسی پوزیشن اور ان کے خیالات عالمی سطح پر موضوع بحث بن چکے ہیں۔ ٹرمپ نے اپنے خیالات کو کھل کر بیان کیا ہے، اور ان کی پالیسیوں کے خلاف صادق خان کا موقف بھی پوری دنیا میں اثرانداز ہو رہا ہے۔
یہ تنقیدیں اور جوابی حملے دونوں ممالک کے سیاسی تعلقات پر اثرانداز ہو سکتے ہیں، خاص طور پر جب ٹرمپ ستمبر میں لندن کے دورے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ ان دونوں رہنماؤں کے بیچ لفظی جنگ کی شدت اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ دونوں کی سیاسی پوزیشنیں ایک دوسرے کے لیے خاصی چیلنج بن چکی ہیں۔
