کیف: یوکرین کی فضاؤں میں ایک بار پھر جنگ کی گھن گرج سنائی دی جب روسی افواج نے رات گئے یوکرینی علاقوں پر خطرناک فضائی حملے کیے، جن کے نتیجے میں مجموعی طور پر 20 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہو گئے۔
یوکرینی میڈیا اور عسکری ذرائع کے مطابق، روسی فورسز نے اپوریژیا کے علاقے میں واقع ایک قیدی جیل پر آٹھ فضائی حملے کیے۔ یہ حملے نہایت طاقتور اور تباہ کن FAB بموں کے ذریعے کیے گئے، جو زمین کو چیر دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ بمباری کے دوران جیل کی عمارت مکمل طور پر تباہ ہو گئی، اور اس واقعے نے نہ صرف مقامی آبادی کو لرزا دیا بلکہ عالمی سطح پر بھی تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔
یوکرینی حکام نے تصدیق کی ہے کہ ان حملوں میں 16 قیدی جاں بحق اور 35 سے زائد افراد زخمی ہو گئے، جن میں جیل کا عملہ اور سیکیورٹی اہلکار بھی شامل ہیں۔ زخمیوں کو فوری طور پر نزدیکی اسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا ہے، جہاں کئی کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔
اس کے علاوہ، ڈنیپروپیٹروفسک ریجن بھی روسی حملوں سے محفوظ نہ رہا۔ گزشتہ رات اس علاقے پر کیے گئے حملوں میں 4 شہری جاں بحق ہوئے جبکہ متعدد افراد زخمی ہو گئے۔ مقامی انتظامیہ کے مطابق، شہری آبادی کو نشانہ بنانے والے یہ حملے بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔
بین الاقوامی برادری ان حملوں کو ایک نئے جنگی مرحلے کا آغاز قرار دے رہی ہے، اور امکان ہے کہ اقوام متحدہ اور نیٹو کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آئے گا۔ FAB بموں کا استعمال اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ جنگ کس قدر سنگین اور غیر انسانی رخ اختیار کر چکی ہے۔
یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے ان حملوں کو جنگی جرائم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ روس ایک دہشت گرد ریاست کی طرح عمل کر رہا ہے، اور دنیا کو اس بربریت کے خلاف آواز بلند کرنا ہو گی۔
