سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارت کو سخت الفاظ میں خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر امریکہ اور بھارت کے درمیان طویل عرصے سے زیرِ التوا تجارتی معاہدہ جلد طے نہیں پایا، تو بھارتی مصنوعات پر 25 فیصد تک درآمدی ٹیرف عائد کر دیا جائے گا۔
صحافیوں سے گفتگو میں ٹرمپ نے دوٹوک لہجے میں کہا کہ اب وہ (بھارت) 25 فیصد ادا کریں گے۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات میں کشیدگی بڑھتی جا رہی ہے۔ امریکی نشریاتی ادارے سی این این کے مطابق، ٹرمپ نے بھارت پر زیادہ درآمدی محصولات، سخت تجارتی شرائط اور غیر منصفانہ تجارتی پالیسیوں کا الزام عائد کیا ہے۔
ان کے بقول، بھارت نے سالوں سے امریکی مصنوعات کے لیے اپنی مارکیٹ بند رکھی ہے، جبکہ امریکہ میں بھارتی مصنوعات کو کھلی آزادی حاصل رہی ہے۔ امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریر نے تسلیم کیا کہ معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے ابھی مزید مذاکرات کی ضرورت ہے۔
دوسری جانب بھارت نے ان بیانات کو قبل از وقت اور غیر ضروری دباؤ قرار دیتے ہوئے امریکی رویے پر برہمی کا اظہار کیا ہے۔ تجارتی اعداد و شمار بھی اس تناؤ کی وضاحت کرتے ہیں، 2024 میں امریکہ نے بھارت سے 87 ارب ڈالر کی درآمدات کیں، جبکہ بھارت نےمحض 42 ارب ڈالر کی امریکی مصنوعات درآمد کیں،جس سے واضح ہوتا ہے کہ تجارتی توازن بھارت کے حق میں ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر امریکہ واقعی بھارتی مصنوعات پر بھاری ٹیرف نافذ کرتا ہے تو اس سے نہ صرف امریکہ اور بھارت کے باہمی تعلقات پر منفی اثر پڑ سکتا ہے بلکہ اس کے عالمی تجارتی نظام پر بھی گہرے اثرات مرتب ہوں گے، اور دنیا بھر کی منڈیوں میں غیریقینی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔
