پاکستان کے زیرِانتظام کشمیر میں غلام مرتضیٰ کاظمی نے 50 سال کی عمر میں میٹرک امتحان پاس کر کے ثابت کر دیا کہ تعلیم میں عمر کی کوئی حد نہیں ہوتی۔ بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن نے حال ہی میں میٹرک کے سالانہ نتائج جاری کیے، جن میں ضلع جہلم ویلی کے گہل جبڑا کے رہائشی غلام مرتضیٰ بھی شامل ہیں۔ انہوں نے 1200 میں سے 598 نمبر حاصل کیے اور اپنی مسلسل محنت و لگن سے کامیابی کا ثبوت دیا۔
غلام مرتضیٰ نے پہلی بار سنہ 1993 میں میٹرک امتحان میں حصہ لیا تھا، لیکن کامیاب نہ ہو سکے۔ پھر 2001 میں دوبارہ امتحان دینے کی کوشش کی، مگر اس بار بھی کامیابی حاصل نہ ہوئی۔ تقریباً تین دہائی کے بعد، اپنے بچوں کی حوصلہ افزائی اور اپنی بے پناہ خواہش کے تحت انہوں نے دوبارہ امتحان دینے کا فیصلہ کیا۔ مرتضیٰ کے بیٹے بی ایس سی ایس کے طالب علم اور بیٹی ایف ایس سی کی طالبہ ہیں، جنہوں نے والد کو دوبارہ امتحان دینے کی ترغیب دی اور امتحان کی تیاری میں مکمل تعاون کیا۔
انہوں نے اردو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سیاست میں دلچسپی اور روزانہ اخبار پڑھنے کی عادت نے انہیں علم کی طرف راغب رکھا۔ انہوں نے بتایا کہ امتحان میں کامیابی کے بعد نہ صرف اہل خانہ بلکہ گاؤں کے لوگ بھی مبارک باد دینے آ رہے ہیں، جبکہ سوشل میڈیا صارفین نے بھی ان کی لگن اور حوصلے کو سراہا ہے۔
بورڈ کے اہلکار نے واضح کیا کہ میٹرک امتحان میں زیادہ عمر کی کوئی حد نہیں ہے، اور ہر امیدوار، چاہے وہ کسی بھی عمر کا ہو، بورڈ کے لیے طالب علم کے طور پر تسلیم کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کم سے کم عمر 13 سال ہے، لیکن زیادہ عمر کے امیدوار بھی امتحان میں حصہ لے سکتے ہیں، اور یہ کسی بھی عمر کے لیے ایک مثبت اور حوصلہ افزا موقع ہے۔
غلام مرتضیٰ کی کہانی نہ صرف پاکستان کے زیرِانتظام کشمیر کے نوجوانوں کے لیے متاثر کن ہے بلکہ ہر اس شخص کے لیے مثال ہے جو عمر کے کسی بھی حصے میں تعلیم حاصل کرنے کا خواب رکھتا ہے۔ ان کی محنت اور لگن یہ ثابت کرتی ہے کہ مستقل مزاجی اور خاندان کی حوصلہ افزائی سے ہر مقصد حاصل کیا جا سکتا ہے۔
