واشنگٹن : امریکہ نے غیرقانونی مہاجرت کے خلاف اپنی مہم کو مزید تقویت دینے کے لیے ہونڈوراس اور یوگنڈا کے ساتھ دوطرفہ بے دخلی معاہدے طے کر لیے ہیں۔ یہ انکشاف امریکی ذرائع ابلاغ نے بی بی سی کے شراکت دار ادارے CBS کی حاصل کردہ سرکاری دستاویزات کے ذریعے کیا ہے۔
معاہدے کے تحت یوگنڈا ان افریقی اور ایشیائی پناہ گزینوں کو قبول کرے گا جو امریکہ-میکسیکو سرحد پر پناہ کی درخواست دے چکے ہیں، بشرطیکہ ان کا مجرمانہ ریکارڈ نہ ہو۔ تاہم، یوگنڈا کتنے افراد کو قبول کرے گا، اس کی واضح تفصیلات تاحال سامنے نہیں آئیں
دوسری جانب، ہونڈوراس آئندہ دو سال کے دوران ہسپانوی زبان بولنے والے کئی سو افراد کو قبول کرے گا، جن میں بچوں کے ہمراہ سفر کرنے والے خاندان بھی شامل ہوں گے۔ دستاویزات کے مطابق، ہونڈوراس ضرورت پڑنے پر مزید افراد کو بھی قبول کرنے پر آمادہ ہو سکتا ہے۔
یہ اقدامات ٹرمپ انتظامیہ کی عالمی سطح پر تیسرے ممالک کے ساتھ بے دخلی کے معاہدوں کی مہم کا حصہ ہیں۔ امریکہ اب تک درجن بھر سے زائد ممالک کے ساتھ ایسے معاہدے کر چکا ہے، جن میں کچھ ممالک پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات بھی ہیں۔
گزشتہ ہفتے امریکی محکمہ خارجہ نے پیراگوئے کے ساتھ "محفوظ تیسرا ملک” کا معاہدہ طے کیا، جس کے تحت دونوں ممالک مہاجرین کا بوجھ بانٹنے پر متفق ہوئے۔ اس سے قبل روانڈا بھی اعلان کر چکا ہے کہ وہ امریکہ سے 250 مہاجرین قبول کرے گا، بشرطیکہ ہر فرد کی منظوری روانڈا خود دے گا۔
پاناما اور کوسٹا ریکا نے بھی رواں سال کے اوائل میں امریکہ سے درجنوں افریقی اور ایشیائی تارکین وطن کو قبول کرنے پر اتفاق کیا تھا، جبکہ امریکہ نے اسپین اور ایکواڈور جیسے ممالک سے بھی ایسے معاہدوں کے لیے رابطہ کیا ہے۔
ٹرمپ نے اپنی دوسری صدارتی مدت کے آغاز سے ہی غیرقانونی تارکین وطن کے خلاف سخت اقدامات کیے ہیں، جنہیں ان کی انتخابی مہم کا کلیدی وعدہ تصور کیا جاتا ہے۔
جون میں امریکی سپریم کورٹ نے ٹرمپ کو یہ اجازت دے دی تھی کہ وہ تارکین وطن کو ان کے آبائی ملک کے بجائے تیسرے ممالک میں بے دخل کر سکتے ہیں، بغیر اس کے کہ وہ اپنی جان کو لاحق ممکنہ خطرات کے بارے میں اپیل کر سکیں۔ اس فیصلے پر ججز سونیا سوتومائر، ایلینا کیگن، اور کیٹانجی براؤن جیکسن نے اختلاف کیا، اور اسے عدالتی اختیارات کا سنگین غلط استعمال قرار دیا۔
اقوام متحدہ کے ماہرین اور بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں بھی ان بے دخلیوں کو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دے رہی ہیں، کیونکہ ان کے مطابق تارکین وطن کو ایسے ممالک میں بھیجا جا رہا ہے جہاں ان کی جان و مال کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔
