ملائیشیا کی ریاست ترنکگا نور میں بغیر شرعی عذر کے نمازِ جمعہ ترک کرنے والے مردوں کے لیے سخت سزائیں متعارف کرادی گئی ہیں۔ مقامی حکام نے اعلان کیا ہے کہ نمازِ جمعہ چھوڑنے والوں کو 2 سال قید اور 3 ہزار رنگٹ (تقریباً 2 لاکھ پاکستانی روپے) تک جرمانہ کیا جائے گا۔ یہ فیصلہ ریاستی اسلامی جماعت پی ایس اے (پاس) کے زیرِ انتظام لیا گیا ہے اور اس کا مقصد مسلمانوں کے درمیان دینی ذمہ داریوں اور فرمانبرداری کے شعور کو فروغ دینا ہے۔
اس اقدام کا مقصد صرف نمازِ جمعہ کو ایک مذہبی فریضہ کے طور پر اہمیت دینا نہیں بلکہ ریاست میں دینی شعور اور اطاعت کا ماحول پیدا کرنا بھی ہے۔ ریاستی ایگزیکٹو کونسل کے رکن، محمد خلیل عبدالہادی نے کہا کہ یہ سزا صرف اُس صورت میں دی جائے گی جب لوگوں کو نمازِ جمعہ کی یاد دہانی کرانے کے باوجود وہ اس فریضہ کو ادا نہیں کریں گے۔ ان کے مطابق یہ سزا نہ صرف شرعی احکام کی پاسداری کے لیے ضروری ہے، بلکہ مسلمانوں میں اجتماعی ذمہ داری کا احساس بھی پیدا کرتی ہے۔
محمد خلیل عبدالہادی نے وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ جمعہ کی نماز نہ صرف مسلمانوں کے لیے ایک مذہبی فریضہ ہے بلکہ یہ ان کے ایمان اور معاشرتی ذمہ داری کا مظہر بھی ہے۔ یہ نماز مسلمانوں کے درمیان بھائی چارے اور تعلقات کو مضبوط کرنے کا ایک ذریعہ بناتی ہے۔ اس لیے، ان کے مطابق جب کسی فرد کو اس کی اہمیت اور ضروریات سے آگاہ کیا جائے اور وہ پھر بھی اس کو ترک کرے، تو اس کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔
یہ نیا قانون دراصل پچھلے فیصلے کی توسیع ہے، جس کے مطابق تین مرتبہ نمازِ جمعہ ترک کرنے والے افراد کے خلاف سزا دی جاتی تھی۔ تاہم، اب اس میں سختی کی گئی ہے اور نمازِ جمعہ ترک کرنے والوں کی تعداد میں کوئی حد مقرر نہیں کی گئی۔ حکومت کا موقف ہے کہ یہ اقدام ریاستی سطح پر دینی شعور بڑھانے اور انفرادی طور پر بھی لوگوں کو اللہ کے احکام کی پیروی کی طرف راغب کرنے کے لیے ہے۔
نئے قانون کے تحت نمازِ جمعہ ترک کرنے والوں کے خلاف کارروائی عوامی رپورٹس یا گشتوں کے ذریعے کی جائے گی۔ اگر کسی فرد نے نمازِ جمعہ چھوڑ دی اور اس کا پتہ چل گیا تو فوری طور پر کارروائی کی جائے گی۔ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے حکام نے باقاعدہ گشت کے نظام کو بھی متعارف کرایا ہے تاکہ اس فیصلے پر مؤثر طور پر عمل درآمد ہو سکے۔
یہ قانون ملائیشیا میں اسلامی معاشرتی اصولوں کی اہمیت کو دوبارہ اجاگر کرتا ہے۔ نمازِ جمعہ کو اہم دینی فریضہ اور مسلمان مردوں کے لیے ایک فرض قرار دیا گیا ہے جس کی ادائیگی کا دینی اور اخلاقی تقاضا ہے۔ ریاست ترنکگا نور کی حکومت اس نئے اقدام کو اسلامی تعلیمات کے مطابق مسلمانوں میں دینی ذمہ داریوں کا شعور پیدا کرنے کے لیے ضروری سمجھتی ہے۔
یہ اقدام نہ صرف دینی فریضے کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے بلکہ ریاستی سطح پر مسلمانوں کے اخلاقی رویوں میں بھی بہتری لانے کی کوشش ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ نمازِ جمعہ میں عدم شرکت سے مسلمانوں کے درمیان روحانیت کی کمی آتی ہے اور اس کی بدولت ایک مضبوط اور بااخلاق معاشرتی نظام کی تشکیل میں رکاوٹ آتی ہے۔
