واشنگٹن: امریکی تھنک ٹینک سینٹر فار اسٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز (سی ایس آئی ایس) کی ایک تازہ رپورٹ نے ایک چونکا دینے والا انکشاف کیا ہے کہ شمالی کوریا نے چین کی سرحد سے صرف 27 کلومیٹر کے فاصلے پر ایک خفیہ فوجی اڈہ قائم کیا ہے، جو ممکنہ طور پر بین البراعظمی بیلسٹک میزائلوں کا مرکز بن سکتا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یہ فوجی اڈہ سن پنگ ڈونگ نامی علاقے میں واقع ہے، جو شمالی پیونگان صوبے میں موجود ہے۔ اس اڈے میں چھ سے نو ایٹمی ہتھیاروں کو لے جانے کی صلاحیت رکھنے والے میزائل اور لانچرز موجود ہو سکتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ میزائل نہ صرف مشرقی ایشیا کے لیے بلکہ براعظم امریکا کے لیے بھی ایک سنگین خطرہ ثابت ہو سکتے ہیں۔
سی ایس آئی ایس کا کہنا ہے کہ یہ پہلی بار ہے جب اس اڈے کی آزادانہ اور تفصیلی تصدیق سامنے آئی ہے۔ شمالی کوریا کے پاس اس نوعیت کے 15 سے 20 خفیہ بیسز اور تنصیبات ہونے کا شبہ ہے، جنہیں اب تک کسی بھی بین الاقوامی مذاکرات میں ظاہر نہیں کیا گیا۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ شمالی کوریا کی بیلسٹک میزائل حکمتِ عملی اور ایٹمی صلاحیت میں اضافے کی یہ ایک اور واضح نشاندہی ہے۔ کسی بھی بحران یا جنگ کی صورت میں یہ میزائل اپنے اڈوں سے منتقل کر کے پوشیدہ انداز میں لانچ کیے جا سکتے ہیں، جس سے ان کے خلاف دفاعی اقدامات کو پیچیدہ بنایا جا سکتا ہے۔
شمالی کوریا کا بیلسٹک میزائل پروگرام: نئے اڈے کی موجودگی اس بات کی علامت ہے کہ شمالی کوریا اپنے بیلسٹک میزائل پروگرام میں تیزی سے اضافہ کر رہا ہے۔
امریکہ-شمالی کوریا تعلقات: 2019 میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان کے درمیان ہنوئی میں ہونے والا سربراہی اجلاس ناکام ہونے کے بعد شمالی کوریا نے اپنے ایٹمی پروگرام میں اضافہ کیا۔
روس اور شمالی کوریا کے تعلقات: حالیہ برسوں میں پیونگ یانگ اور ماسکو کے تعلقات مزید گہرے ہوئے ہیں، اور اطلاعات کے مطابق شمالی کوریا نے روس کو یوکرین جنگ میں فوجی، گولہ بارود اور میزائل فراہم کیے ہیں، جس کے بدلے روس شمالی کوریا کو جدید خلائی اور سیٹلائٹ ٹیکنالوجی میں مدد فراہم کر رہا ہے۔
