امریکہ کی جانب سے بھارت پر بڑھتے ہوئے معاشی دباؤ اور تجارتی اقدامات کے باوجود، بھارت نے اپنی خارجہ پالیسی میں ایک بار پھر خودمختاری اور لچک کا مظاہرہ کرتے ہوئے ماسکو کا دورہ کیا۔ اس دورے کے دوران بھارتی وزیر خارجہ سبھرامنیم جے شنکر اور روسی وزیر خارجہ سرگئی لاؤروف نے دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔
اس ملاقات میں خاص طور پر توانائی کے شعبے، تجارتی حجم میں اضافہ، اور اقتصادی تعاون کے نئے منصوبے زیر بحث آئے۔
امریکہ نے حالیہ مہینوں میں بھارت پر روسی تیل کی درآمدات کے حوالے سے سخت دباؤ ڈالا ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ نے اعلان کیا تھا کہ اگر بھارت نے روس سے خام تیل کی خریداری کم نہیں کی تو اس پر اضافی 50 فیصد تک کا امریکی ٹیرف نافذ ہوگا۔
یہ اقدام اس وقت اٹھایا جا رہا ہے جب واشنگٹن کی جانب سے روس پر اقتصادی پابندیوں کا سلسلہ جاری ہے، اور بھارت جیسے بڑے خریدار کو ان اقدامات سے روکنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ امریکی حکام کا موقف ہے کہ بھارت کی طرف سے روسی توانائی کی بڑی پیمانے پر خریداری روس کی معیشت کو سہارا دیتی ہے اور بالواسطہ طور پر ماسکو کے فوجی آپریشنز کو تقویت پہنچاتی ہے۔
لیکن بھارت نے امریکی دباؤ کو مسترد کرتے ہوئے اپنی پالیسی کا بھرپور دفاع کیا۔ بھارتی حکام کا کہنا ہے کہ ملک کی توانائی کی ضروریات انتہائی وسیع ہیں اور اس کے لیے متنوع سپلائی چین برقرار رکھنا ناگزیر ہے۔
جے شنکر نے اس حقیقت کی بھی نشاندہی کی کہ بھارت امریکہ سمیت دیگر ذرائع سے بھی توانائی درآمد کر رہا ہے، اس لیے یہ دعویٰ درست نہیں کہ بھارت صرف روس پر انحصار کر رہا ہے۔
ماسکو میں ہونے والی اس اہم ملاقات کے دوران دونوں وزرائے خارجہ نے نہ صرف موجودہ تجارتی تعلقات کا جائزہ لیا بلکہ مستقبل کے لیے تجارتی حجم بڑھانے کا واضح روڈ میپ بھی تیار کیا۔ سرگئی لاؤروف نے کہا کہ روس اور بھارت کے درمیان توانائی کے شعبے میں باہمی تعاون کے وسیع امکانات موجود ہیں۔
انہوں نے خاص طور پر روس کے مشرقی بعید (Far East) اور آرکٹک شیلف میں توانائی کے مشترکہ منصوبوں کو ترجیح دینے کا عندیہ دیا۔ یہ دونوں خطے تیل اور گیس کے وسیع ذخائر کے لیے مشہور ہیں، اور ان منصوبوں میں بھارتی سرمایہ کاری روس کے لیے بھی اہمیت رکھتی ہے۔
بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر نے ملاقات میں زور دیا کہ تجارتی تعلقات میں وسعت کے لیے موجودہ رکاوٹوں اور ریگولیٹری مسائل کو حل کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بھارت پہلے ہی فارماسیوٹیکل، زراعت اور ٹیکسٹائل کے شعبوں میں روس کو برآمدات میں اضافہ کر رہا ہے، لیکن مزید ترقی کے لیے سہولت کاری درکار ہے۔
دونوں ملکوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ آئندہ برسوں میں دوطرفہ تجارت کو بڑھا کر سالانہ 100 ارب ڈالر تک لے جانا ہدف ہوگا، جو موجودہ تجارت کے مقابلے میں تقریباً 50 فیصد زیادہ ہے۔
توانائی کی بڑھتی ہوئی طلب کے پیش نظر بھارت کے لیے روس ایک اہم پارٹنر ہے۔ روس نہ صرف خام تیل بلکہ LNG (لیکویفائیڈ نیچرل گیس) اور دیگر توانائی ذرائع فراہم کرنے کے لیے بھی بھارت کا بنیادی سپلائر بن سکتا ہے۔
دوسری جانب، امریکہ کی طرف سے عائد کیے جانے والے ٹیرف اور تجارتی پابندیاں دونوں ممالک کے تعلقات پر دباؤ ڈال سکتی ہیں، لیکن بھارت کی حکمت عملی اس وقت توازن پر مبنی نظر آتی ہے۔ نئی دہلی نے نہ صرف روس کے ساتھ تعلقات قائم رکھے ہیں بلکہ خلیجی ممالک اور امریکہ سے بھی توانائی کے معاہدے کیے ہیں تاکہ کسی ایک ذریعہ پر انحصار کم کیا جا سکے۔
یہ صورتحال اس بات کا عندیہ دیتی ہے کہ بھارت آنے والے برسوں میں اپنی توانائی کی پالیسی کو مکمل طور پر "Diversified Energy Basket” پر منتقل کرنا چاہتا ہے، جہاں روس، خلیج اور امریکہ تین بڑے ستون کے طور پر موجود ہوں گے۔
امریکی حکام نے بھارت کی اس پالیسی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ یہ رویہ مغربی اتحاد کی روس مخالف حکمت عملی کو نقصان پہنچا رہا ہے۔ امریکی میڈیا کے مطابق واشنگٹن نے واضح پیغام دیا ہے کہ بھارت اگر روسی توانائی کی درآمدات کم نہیں کرتا تو مزید سخت معاشی اقدامات کیے جائیں گے۔
