شمالی اور جنوبی کوریا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں ہے۔ تازہ ترین پیش رفت کے مطابق شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان نے ذاتی طور پر ایسے دو نئے فضائی دفاعی میزائلوں کا تجربہ اپنی نگرانی میں مکمل کرایا ہے جنہیں ملکی میڈیا کے مطابق جدید ٹیکنالوجی اور غیر معمولی جنگی صلاحیتوں سے مزین کیا گیا ہے۔
کوریائی سنٹرل نیوز ایجنسی (KCNA) کی رپورٹ کے مطابق یہ ہتھیار ایسے ہوائی اہداف کو تباہ کرنے کے لیے تیار کیے گئے ہیں جن میں کروز میزائل اور ڈرون شامل ہیں۔ اگرچہ نظام کی تکنیکی تفصیلات ظاہر نہیں کی گئیں، لیکن میڈیا نے دعویٰ کیا کہ یہ میزائل "جدید ترین ٹیکنالوجی کے حامل” ہیں اور کسی بھی قسم کے فضائی خطرے کا مقابلہ کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔
یہ میزائل تجربہ ایسے وقت میں ہوا جب جزیرہ نما کوریا میں ماحول پہلے ہی تناؤ کا شکار تھا۔ حالیہ کشیدگی اس وقت بڑھی جب جنوبی کوریا نے دعویٰ کیا کہ تقریباً 30 شمالی کوریائی فوجی عارضی طور پر غیر فوجی زون (DMZ) عبور کر گئے تھے، جس کے جواب میں جنوبی کوریا نے منگل کے روز وارننگ شاٹس فائر کیے۔ اس واقعے کی تصدیق اقوام متحدہ کی کمان نے بھی کی ہے، تاہم پیونگ یانگ نے اس الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیئول نے "جان بوجھ کر اشتعال انگیزی” کی منصوبہ بندی کی تھی۔
اسی دوران، امریکہ اور جنوبی کوریا کے درمیان بڑے پیمانے پر فوجی مشقیں پیر سے جاری ہیں، جو شمالی کوریا کی شدید تنقید کا نشانہ بن رہی ہیں۔ کم جونگ ان نے ان مشقوں کو حالیہ تاریخ کی "سب سے زیادہ دشمنانہ اور محاذ آرائی پر مبنی کارروائیاں” قرار دیا تھا اور اعلان کیا تھا کہ ان کی حکومت اپنی جوہری ہتھیاروں کی تیاری کی رفتار میں مزید تیزی لائے گی۔
یہ تجربہ ایسے وقت میں بھی سامنے آیا ہے جب پیر کے روز واشنگٹن میں ایک اہم سربراہی اجلاس طے ہے، جس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور جنوبی کوریا کے نو منتخب صدر لی جے میونگ شرکت کریں گے۔ لی جے میونگ نے عندیہ دیا ہے کہ وہ دونوں کوریا کے درمیان تعلقات کو بہتر بنانے کے خواہاں ہیں، تاہم کم جونگ ان کی بہن نے پہلے ہی سیئول کی ان کوششوں کو مسترد کر دیا ہے۔
اس سال شمالی کوریا نے ہتھیاروں کے کئی تجربات کیے ہیں۔ ان میں سب سے اہم تجربہ جنوری میں ہوا تھا، جب پیونگ یانگ نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل کو ہائپرسانک وار ہیڈ کے ساتھ کامیابی سے لانچ کیا ہے۔ جنوبی کوریائی حکام نے یہ بھی خدشہ ظاہر کیا ہے کہ شمالی کوریا روس سے میزائل ٹیکنالوجی حاصل کر رہا ہے، ممکنہ طور پر یوکرین میں ماسکو کی جنگی کوششوں کے بدلے۔ تاہم اس حوالے سے کوئی ٹھوس شواہد سامنے نہیں آئے کہ ہفتے کو کیے گئے تازہ ترین تجربات میں روسی ٹیکنالوجی شامل تھی۔
یہ تمام واقعات ایک ایسے خطے میں پیش آ رہے ہیں جہاں امن کا قیام کبھی مکمل طور پر ممکن نہیں ہو سکا۔ 1953 میں کوریا کی جنگ کو ختم کرنے کے لیے جو معاہدہ کیا گیا تھا، وہ صرف ایک جنگ بندی تھی، امن معاہدہ نہیں۔ اس لیے آج بھی شمالی اور جنوبی کوریا تکنیکی طور پر حالتِ جنگ میں ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہر نیا میزائل تجربہ اور سرحدی واقعہ اس پرانی دشمنی کو مزید بھڑکا دیتا ہے اور خطے کے امن کو خطرے میں ڈال دیتا ہے۔
یہ صورتحال نہ صرف مشرقی ایشیا بلکہ عالمی سطح پر بھی تشویش پیدا کر رہی ہے، کیونکہ شمالی کوریا کی دفاعی سرگرمیوں اور ہتھیاروں کی دوڑ میں روس کی ممکنہ شمولیت نئی جغرافیائی سیاست کو جنم دے سکتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ واشنگٹن میں ہونے والا سربراہی اجلاس، جہاں دونوں اتحادی مستقبل کی حکمتِ عملی پر بات کریں گے، خطے کے آئندہ منظرنامے کا فیصلہ کن لمحہ ثابت ہو سکتا ہے۔
