جدہ میں اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے وزرائے خارجہ کا غیر معمولی اجلاس منعقد ہوا، جس میں اسرائیل کے غزہ پر بڑھتے ہوئے حملوں، انسانی بحران اور اقوام متحدہ کے قوانین کی کھلی خلاف ورزیوں پر شدید تشویش ظاہر کی گئی۔ اجلاس کے دوران شرکاء نے اسرائیل کی اقوام متحدہ میں رکنیت پر سوال اٹھاتے ہوئے اس کے معطل کرنے کے لیے قانونی اور سفارتی اقدامات کی تجویز پیش کی۔
وزرائے خارجہ نے اس بات پر اتفاق کیا کہ اسرائیل نے اپنی جارحانہ پالیسیوں، فلسطینی عوام پر جاری نسل کشی اور "گریٹر اسرائیل” کے خطرناک منصوبے کے ذریعے اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی کی ہے۔ اجلاس کے شرکاء نے ایسے بیانات کو انتہا پسندی اور اشتعال انگیزی پر مبنی قرار دیا جو خطے کے امن اور عالمی استحکام کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔
او آئی سی کے اعلامیے میں کہا گیا کہ اسرائیل کے اقدامات، جن میں غزہ کا مکمل محاصرہ، شہری ڈھانچے کی تباہی، پانی اور خوراک کی فراہمی میں رکاوٹیں، اور طبی سہولیات پر حملے شامل ہیں، نہ صرف انسانی حقوق بلکہ بین الاقوامی انسانی قوانین کی بھی کھلی خلاف ورزی ہیں۔ شرکاء نے واضح کیا کہ یہ عمل ایک انسانی ساختہ تباہی اور قحط کو جنم دے رہا ہے۔
بیان میں عالمی برادری، بالخصوص سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ فوری اجلاس طلب کرے تاکہ اسرائیل کی جاری جارحیت کو روکا جا سکے اور فلسطینی عوام تک ہنگامی انسانی امداد کی فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے۔ اجلاس میں تجویز دی گئی کہ تمام گزرگاہیں فوری کھولی جائیں اور غزہ پر عائد محاصرہ غیر مشروط طور پر ختم کیا جائے۔
وزرائے خارجہ نے مصر، قطر اور امریکہ کی جانب سے جنگ بندی کے لیے کی جانے والی کوششوں کو سراہا اور کہا کہ ایک جامع قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے کے ذریعے بے گھر فلسطینیوں کی واپسی کو یقینی بنایا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ غزہ کی تعمیر نو کے لیے قاہرہ میں بین الاقوامی کانفرنس بلانے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔
اجلاس کے شرکاء نے اسرائیل کے مسلسل انکار اور ثالثی کی کوششوں کو ناکام بنانے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ رویہ کسی بھی سیاسی تصفیے کے امکانات کو خطرے میں ڈال رہا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ عالمی برادری اپنی قانونی اور اخلاقی ذمہ داری پوری کرے اور اسرائیل کو جنگی جرائم، نسل کشی اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر جوابدہ ٹھہرائے۔
او آئی سی نے فلسطینی عوام کے بنیادی اور ناقابل تقسیم حقوق، جن میں حق خود ارادیت، پناہ گزینوں کی واپسی اور 1967ء کی سرحدوں پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام شامل ہے، کی بھرپور تائید کا اعادہ کیا۔
