اسلام آباد: پاکستان اور جمہوریہ آرمینیا کےدرمیان باضابطہ سفارتی تعلقات کے قیام پر بات چیت کا آغازہوچکا ہے،جب نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار اور آرمینیا کےوزیرِخارجہ ارارات میرزویاں نے ایک خوشگوار اور تعمیری ٹیلی فونک گفتگو کی۔ اس موقع پر دونوں رہنماؤں نے باہمی تعلقات کو مستحکم کرنے اور جدید عالمی چیلنجز میں ایک دوسرے کا ساتھ دینے کے عزم کا اظہار کیا۔
جمعہ کے روز، سینیٹر اسحاق ڈار نے اپنی ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر پوسٹ میں اس بات کا اعلان کیا کہ ان کی آرمینیا کے وزیرِ خارجہ ارارات میرزویاں سے ٹیلی فون پر ایک کامیاب اور تعمیری گفتگو ہوئی۔ اس گفتگو میں دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور آرمینیا کے درمیان باقاعدہ سفارتی تعلقات قائم کرنے کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا اور اس پر اتفاق کیا کہ دونوں ممالک کو اپنے تعلقات کو مستحکم کرنے کی ضرورت ہے۔
اسحاق ڈار نے مزید کہا کہ پاکستان ہمیشہ اپنے عالمی تعلقات میں مفاہمت اور تعاون کو اہمیت دیتا ہے اور یہ تعلقات نہ صرف دونوں ممالک کے مفاد میں ہوں گے، بلکہ عالمی سطح پر بھی امن اور استحکام کی راہ ہموار کریں گے۔
دوسری جانب، آرمینیا کے وزیرِ خارجہ ارارات میرزویاں نے بھی اس اہم بات چیت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ یہ گفتگو نہایت تعمیری اور مفید تھی۔ انہوں نے کہا کہ اس گفتگو میں پاکستان اور آرمینیا کے درمیان دوطرفہ اور کثیر الجہتی پلیٹ فارمز پر تعاون کے نئے مواقع پر غور کیا گیا۔ ارارات میرزویاں نے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے لیے اقدامات کرنے پر زور دیا اور کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی، تجارتی، اور ثقافتی تعلقات کا قیام ممکن ہو گا۔
پاکستان اور آرمینیا کے درمیان تاحال باضابطہ سفارتی تعلقات قائم نہیں ہیں۔ اس تعلق کے قیام کے باوجود، پاکستان نے ہمیشہ آذربائیجان کی حمایت کی ہے، خاص طور پر آذربائیجان-آرمینیا تنازعے کے حوالے سے، اور آرمینیا کے ساتھ پاکستان کے تعلقات زیادہ تر جیوپولیٹیکل تناظر میں دیکھے جاتے ہیں۔ آرمینیا نے ہمیشہ پاکستان کی حمایت سے آگاہ کیا، لیکن دونوں ممالک کے مابین تعلقات میں تناؤ رہا ہے۔
رواں ماہ کے آغاز میں، وزیراعظم شہباز شریف نے امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ثالثی سے آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان ہونے والے امن معاہدے کا خیرمقدم کیا تھا۔ وزیراعظم نے کہا تھا کہ پاکستان نے ہمیشہ آذربائیجان کی حمایت کی ہے اور اس تاریخی معاہدے میں بھی وہ ان کے ساتھ کھڑا ہے۔ پاکستان کے اس موقف کو عالمی سطح پر پذیرائی ملی تھی اور یہ ثابت کیا گیا تھا کہ پاکستان اپنے جیوپولیٹیکل مفادات کے پیش نظر دنیا کے مختلف ممالک کے ساتھ تعلقات میں توازن برقرار رکھتا ہے۔
پاکستان اور آرمینیا کے درمیان تعلقات کا قیام عالمی سطح پر ایک نئے سیاسی منظرنامے کو جنم دے سکتا ہے۔ دونوں ممالک کی کوشش ہے کہ موجودہ عالمی چیلنجز کے دوران ایک دوسرے کے ساتھ مضبوط سفارتی اور اقتصادی تعلقات قائم کیے جائیں۔ اس کے نتیجے میں، نہ صرف دونوں ممالک کی معیشتیں مستحکم ہو سکتی ہیں بلکہ عالمی سطح پر امن اور استحکام کے امکانات بھی بڑھ سکتے ہیں۔
