بھارت اور کینیڈا کے درمیان تعلقات جو گزشتہ دو برسوں میں شدید تناؤ کا شکار ہو گئے تھے، اب بتدریج بحالی کی جانب بڑھتے دکھائی دیتے ہیں۔ دونوں ممالک نے ایک اہم پیش رفت کرتے ہوئے ایک دوسرے کے ہاں نئے ہائی کمشنرز مقرر کر دیے ہیں، جو اس بات کا عندیہ ہے کہ سفارتی تعلقات میں سرد مہری کے بعد اب بہتری کی کوششیں جاری ہیں۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب گزشتہ سال دونوں ممالک کے تعلقات ایک بڑے بحران سے گزرے تھے۔ جون 2023 میں وینکوور کے مضافات میں سکھ رہنما ہردیپ سنگھ نِجّار کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا۔ نِجّار کو بھارت نے 2020 میں دہشت گرد قرار دیا تھا، اور ان کے قتل کے بعد کینیڈا کے اُس وقت کے وزیرِاعظم جسٹن ٹروڈو نے بھارتی حکومت پر الزام لگایا کہ اس قتل میں بھارتی ایجنٹ ملوث ہو سکتے ہیں۔ ٹروڈو کے اس بیان کو بھارت نے "بے بنیاد اور سیاسی مقاصد پر مبنی” قرار دے کر سختی سے مسترد کر دیا اور الٹا کینیڈا پر الزام لگایا کہ وہ برسوں سے خالصتان تحریک سے جڑے گروپوں کو تحفظ فراہم کرتا رہا ہے۔
ان الزامات کے بعد دونوں ممالک نے ایک دوسرے کے سفارت کاروں کو ملک بدر کر دیا۔ اکتوبر 2023 میں بھارت کے ہائی کمشنر کو واپس بلا لیا گیا، جبکہ اسی روز بھارت نے چھ سینئر کینیڈین سفارتکاروں کو بھی ملک چھوڑنے کا حکم دیا۔ یہ واقعہ دہلی اور اوٹاوا کے تعلقات میں ایک تاریخی تناؤ کی علامت سمجھا گیا۔
تاہم رواں سال جون میں منظر نامہ بدلنے لگا، جب بھارتی وزیرِاعظم نریندر مودی اور کینیڈا کے نئے وزیرِاعظم مارک کارنی کی کینیڈا میں پہلی ملاقات ہوئی۔ اس ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے دوبارہ ہائی کمشنرز کی تعیناتی کی جائے۔
اب کینیڈا کی وزیرِ خارجہ انیتا آنند نے اعلان کیا ہے کہ کرسٹوفر کوٹر کو نئی دہلی میں نیا ہائی کمشنر مقرر کیا گیا ہے۔ ان کے بقول یہ اقدام بھارت کے ساتھ "مرحلہ وار سفارتی روابط کو مستحکم کرنے” کی پالیسی کا حصہ ہے۔ دوسری جانب بھارت نے اسپین میں تعینات سفیر دنیش کے پٹنائک کو کینیڈا میں نیا ہائی کمشنر نامزد کر دیا ہے، اور بھارتی وزارتِ خارجہ کے مطابق وہ جلد اپنی ذمہ داریاں سنبھال لیں گے۔
بھارت اور کینیڈا کے درمیان اختلافات کی ایک بڑی وجہ خالصتان تحریک بھی رہی ہے۔ بھارت کا مؤقف ہے کہ کینیڈا کی سرزمین پر موجود بعض گروہ برسوں سے علیحدہ سکھ ریاست کے مطالبے کو ہوا دے رہے ہیں، جبکہ کینیڈا میں مقیم سکھ برادری، جو تقریباً 7 لاکھ 70 ہزار افراد پر مشتمل ہے اور پنجاب کے باہر سب سے بڑی سکھ آبادی سمجھی جاتی ہے، اس تحریک سے جڑی ہوئی ہے۔
