کابل (افغانستان):افغانستان کے مختلف علاقوں میں اتوار اور پیر کی درمیانی شب آنے والے شدید زلزلے نے ملک کو ہلا کر رکھ دیا۔ افغانستان کی وزارت داخلہ کے مطابق، زلزلے کے نتیجے میں کم از کم 622 افراد ہلاک ہو گئے ہیں جبکہ 1500 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔ ریکٹر سکیل پر اس زلزلے کی شدت 6.0 تھی، جو علاقے میں شدید تباہی کا سبب بنی۔ زلزلے کا مرکز صوبہ کنڑ تھا، جہاں سب سے زیادہ ہلاکتیں اور نقصانات رپورٹ ہوئے ہیں۔
وزارت داخلہ کے ترجمان عبدالمتین قانی نے فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ کنڑ میں 610 افراد ہلاک اور 1300 سے زائد زخمی ہوئے ہیں، جبکہ ننگرہار میں 12 افراد کی ہلاکت اور 255 زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔
نیوز چینل طلوع کے مطابق، امریکی جیولوجیکل سروے نے بتایا کہ یہ زلزلہ رات کے وقت آیا اور اس کا مرکز کنڑ صوبے میں تھا۔ قدرتی آفات سے نمٹنے والے ادارے کے حکام نے بتایا کہ نرگال، ساؤکے، وتاپور، منگوئی اور چاپا دارا جیسے دور دراز علاقوں میں بھی شدید نقصان پہنچا۔ امدادی ٹیمیں ان علاقوں میں پہنچ چکی ہیں اور زخمیوں کو فوری طور پر ہسپتالوں منتقل کرنے کا عمل جاری ہے۔ اس وقت بھی مختلف علاقوں میں ملبے تلے دبے افراد کی تلاش کے لیے امدادی سرگرمیاں جاری ہیں، اور حکام کا کہنا ہے کہ ہلاکتوں اور زخمیوں کی تعداد میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔
خاص طور پر ضلع نرگول کے دیہاتوں میں بڑی تعداد میں لوگ ملبے تلے دبے ہوئے ہیں جن کی تعداد 100 سے زائد ہو سکتی ہے۔ متاثرہ علاقوں کے رہائشیوں نے دوسرے صوبوں کے مکینوں سے مدد کی اپیل کی ہے تاکہ ان کی فوری امداد کی جا سکے۔
حکومتی ذرائع نے بتایا کہ وزارت دفاع، داخلہ، اور وزارت صحت کی امدادی ٹیمیں ننگرہار میں پہنچ چکی ہیں، اور زخمیوں کو ایئر ایمبولینس کے ذریعے ننگرہار کے ہسپتال منتقل کیا جا رہا ہے۔ حکومت کی طرف سے اعلان کیا گیا کہ تمام وسائل لوگوں کی جان بچانے کے لیے استعمال کیے جا رہے ہیں۔
رات ساڑھے 12 بجے کے قریب ملک کے بیشتر حصوں میں شدید زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے، جن کے بعد آفٹر شاکس کا سلسلہ جاری رہا۔ ان آفٹر شاکس کی شدت 5.2 تھی، جبکہ ایک اور جھٹکا 4.7 کی شدت کا محسوس کیا گیا۔ یہ جھٹکے صرف افغانستان کے مختلف علاقوں تک محدود نہیں رہے بلکہ پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے متعدد شہروں میں بھی محسوس کیے گئے، جن میں پشاور، مردان، صوابی اور اسلام آباد شامل ہیں۔ اسلام آباد میں زلزلے کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ شہری گھروں سے باہر نکل آئے اور خوف و ہراس پھیل گیا۔
امدادی سرگرمیاں اب بھی جاری ہیں اور حکام زخمیوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیش نظر فوری طور پر صورتحال پر قابو پانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
