کراچی / پشاور: پاکستان میں ایک بار پھر کالا باغ ڈیم کا معاملہ سیاسی گرما گرمی کا باعث بن گیا ہے۔ جہاں وفاقی حکومت کے نمائندے اور پنجاب کی قیادت اس منصوبے کی حمایت کر رہے ہیں، وہیں خیبرپختونخوا اور سندھ کی بڑی جماعتیں اس ڈیم کو "مردہ گھوڑا” قرار دے کرمسترد کر چکی ہیں۔
عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے مرکزی صدر سینیٹر ایمل ولی خان نے دوٹوک الفاظ میں اعلان کیا ہے کہ کالا باغ ڈیم خیبرپختونخوا کے عوام کے لیے ناقابل قبول ہے۔ اُنہوں نے کہا کالا باغ ڈیم کٹھ پتلی آقاؤں کا ایجنڈا ہے، اور ہم اپنی نسلوں تک اس کے خلاف مزاحمت جاری رکھیں گے۔
جمعیت علمائے اسلام (ف) کے خیبرپختونخوا کے ترجمان عبد الجلیل جان نے کہا کہ یہ منصوبہ مردہ گھوڑا ہے، جسے بار بار زندہ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے طنزیہ سوال کیا وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا بتائیں کہ وہ 350 ڈیم کہاں بنا چکے ہیں جن کا دعویٰ کیا تھا؟
پاکستان پیپلز پارٹی کے جنرل سیکریٹری ہمایوں خان نے کہا کہ کالا باغ ڈیم اب ماضی کا قصہ ہے۔ انہوں نے وفاقی وزیر علی امین گنڈاپور کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ عوام کو ٹرک کی بتی کے پیچھے لگا رہے ہیں۔
صوبائی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے علی امین گنڈاپور کے بیان سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے خطرات سے نمٹنے کے لیے ہمیں بطور قوم ڈیمز کی طرف جانا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ مریم نواز کی قیادت میں نئے ڈیمز پر عملی کام کیا جائے گا۔
وزیر دفاع خواجہ آصف نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کالا باغ ڈیم پر علی امین گنڈاپور کا بیان خوش آئند ہے۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ پاکستان ہر سال قیمتی پانی سمندر میں ضائع کر رہا ہے، کیونکہ ملک کے پاس مناسب اسٹوریج کی سہولیات نہیں ہیں۔
