امریکہ کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایک بار پھر خبروں کی زینت بنے، لیکن اس بار وجہ ان کا کوئی متنازعہ بیان نہیں بلکہ ان کی مبینہ موت تھی! سوشل میڈیا پر افواہوں کا ایسا طوفان اٹھا کہ لوگوں نے دعویٰ کیا ٹرمپ کا انتقال ہو گیا ہے، حتیٰ کہ کچھ صارفین نے جعلی تصاویر، جھوٹے ہیش ٹیگز اور پرانے ویژولز کے ذریعے ان دعوؤں کو سچ ثابت کرنے کی کوشش کی۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ ٹرمپ زندہ و سلامت ہیں اور خود ان افواہوں کو فیک نیوز قرار دے چکے ہیں۔
پچھلے ہفتے ٹرمپ کی چند سرکاری تقریبات سے غیر موجودگی نے سوشل میڈیا پر چہ مگوئیوں کو جنم دیا۔ صرف چند دنوں میں "Trump dead” کا ہیش ٹیگ ایک لاکھ سے زائد بار استعمال ہوا اور 3 کروڑ سے زیادہ بار دیکھا گیا۔ یہ قیاس آرائیاں اتنی شدت سے پھیلیں کہ حقیقت اور افسانہ میں فرق مٹنے لگا۔
سوشل میڈیا پر والٹر ریڈ میڈیکل سینٹر کے باہر جھوٹی سڑک بندش کی خبریں شیئر کی گئیں، تاکہ ظاہر کیا جا سکے کہ ٹرمپ ہسپتال میں داخل ہیں۔ وائٹ ہاؤس کے باہر ایک ایمبولینس کی پرانی تصویر کو حالیہ قرار دیا گیا، جبکہ آدھے جُھکے پرچم کو ٹرمپ کی موت سے جوڑ دیا گیا حالانکہ پرچم دراصل ایک اسکول شوٹنگ کے متاثرین کے لیے جُھکایا گیا تھا۔
مزید برآں، ایک ڈیجیٹل ایڈیٹ کی گئی تصویر میں ٹرمپ کی آنکھ پر گہری لکیر دکھائی گئی، جسے "فالج کی علامت” کے طور پر پیش کیا گیا، حالانکہ اصلی تصویر میں ایسی کوئی چیز موجود نہیں تھی۔ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ان افواہوں کو مسترد کرتے ہوئے لکھابعد ازاں ایک پریس کانفرنس میں انہوں نے ان تمام خبروں کو جھوٹ قرار دیا اور واضح کیا کہ ان کی صحت بالکل ٹھیک ہے۔ انہوں نے ان افواہوں کو اپنی سیاسی کردار کشی کا حصہ بھی قرار دیا۔
یہ بات درست ہے کہ ٹرمپ امریکی تاریخ کے معمر ترین منتخب صدر رہے ہیں، اور 2024 کے انتخابات میں ایک بار پھر میدان میں ہیں۔ دوسری جانب جو بائیڈن، جنہوں نے 82 برس کی عمر میں صدارت چھوڑی، حالیہ ڈیبیٹ میں کمزور کارکردگی کے باعث دوسری مدت کی دوڑ سے باہر ہو چکے ہیں۔
یہ تمام حالات اس طرف اشارہ کرتے ہیں کہ امریکی سیاست میں لیڈروں کی صحت ایک نازک اور متنازعہ موضوع بنتی جا رہی ہے، جہاں افواہیں، ایڈیٹ شدہ تصاویر اور فیک نیوز کی طاقت کسی بھی حقیقت کو دبانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
