ریاض:سعودی عرب نے لاجسٹک سروسز کے شعبے میں جدت اور تیزرفتاری کے نئے دور کا آغاز کرتے ہوئے ڈرونز کے ذریعے اشیاء کی ترسیل کا کامیاب تجربہ کیا ہے۔ یہ تجربہ سول ایوی ایشن اتھارٹی اور ٹرانسپورٹ اتھارٹی کے مشترکہ تعاون سے مکمل ہوا، جس میں نائب وزیر ٹرانسپورٹ و لاجسٹک سروسز ڈاکٹر رمیح الرمیح بھی موجود تھے۔
ڈاکٹر رمیح الرمیح نے کہا کہ مملکت نے لاجسٹک سیکٹر کو جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کی طرف پہلا قدم اٹھا لیا ہے، جس سے ڈیجیٹل تبدیلی کی رفتار میں تیزی آئے گی۔ انہوں نے اس موقع پر زور دیا کہ یہ اقدام نہ صرف لاجسٹک خدمات کو موثر اور مستحکم بنائے گا بلکہ معیشت کی ترقی میں بھی مددگار ثابت ہوگا۔
ایوی ایشن سیفٹی کے نائب نگران برائے آپریشنز و ماحولیاتی تحفظ کپٹن سلیمان المحیمیدی نے کہا کہ ڈرونز کے ذریعے ترسیل کے تجربات مملکت میں لاجسٹک شعبے میں پائیدار اور جدید ترقی کا ثبوت ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ ٹیکنالوجی نہ صرف وقت کی بچت کرے گی بلکہ اخراجات کو بھی کم کرنے میں مدد دے گی، جو سعودی عرب کی ویژن 2030 کے اہداف کے عین مطابق ہے۔
اس تجربے نے سعودی عرب کو دنیا کے ان ممالک میں شامل کر دیا ہے جو لاجسٹک اور ٹرانسپورٹ کے شعبے میں جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے معیار زندگی کو بہتر بنانے اور کاروباری سرگرمیوں کو تیز کرنے میں پیش پیش ہیں۔ یہ کامیابی مملکت کی صنعتی ترقی اور ڈیجیٹلائزیشن کے سفر میں ایک سنگ میل کے طور پر دیکھی جا رہی ہے۔
