صوابی میں ایک دلچسپ اور حیران کن ڈراما سامنے آیا جب ٹک ٹاک پر خواتین کے روپ میں مشہور ہونے والا ایک ٹک ٹاکر دراصل نوجوان عبدالمغیز نکلا۔ صوابی پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے اس نوجوان کو گرفتار کر لیا اور ابتدائی تفتیش میں اس نے اعتراف بھی کر لیا کہ یہ سب کچھ اس نے خود ہی شہرت حاصل کرنے کے لیے کیا۔
پولیس کے مطابق عبدالمغیز مختلف پوز بنا کر اور خواتین کے انداز اپناتے ہوئے غیر اخلاقی ویڈیوز بناتا اور انہیں ٹک ٹاک پر اپ لوڈ کرتا تھا، جنہیں دیکھ کر کئی صارفین دھوکا کھا گئے۔ تاہم، ان ویڈیوز نے مقامی سطح پر بے چینی بھی پھیلائی۔ بامخیل پولیس چوکی کے انچارج عامر خان نے چھان بین کے بعد ملزم کو گرفتار کیا۔ عبدالمغیز نے وعدہ کیا کہ وہ آئندہ ایسا دوبارہ نہیں کرے گا۔
واقعہ سامنے آتے ہی سوشل میڈیا پر طنز و مزاح کی لہر دوڑ گئی۔ ایک صارف نے لکھاصوابی والا ڈیفالٹ پروٹوکول لڑکی لگے لیکن لڑکا نکل جائے، یہ تو پورا ٹھگ نکلا۔ جبکہ دوسرے نے تبصرہ کیامیٹرو فلٹلی کو کمیونٹی نے نظر انداز کیا، لیکن صوابی نے تو پورا Netflix کا سیزن فائنل کر دیا۔
یہ کوئی پہلا موقع نہیں جب پاکستان میں ٹک ٹاکرز نے جعلی شناخت اپنا کر لوگوں کو حیران کیا۔ لاہور میں ایک ٹک ٹاکر نے خواتین کے میک اپ میں ہزاروں فالورز حاصل کیے مگر بعد میں اصلیت سامنے آنے پر اسے ’’فیک فیمنائن‘‘ کہا گیا۔ فیصل آباد میں ’’آنٹی ٹک ٹاکر‘‘ کے نام سے مشہور کردار بھی نوجوان نکلا جس نے اعتراف کیا کہ یہ سب محض مزاح کے لیے تھا۔ کراچی میں ایک مرد ٹک ٹاکر نے برقع پہن کر ویڈیوز بنائیں جسے صارفین نے ’’ثقافتی مذاق‘‘ قرار دیا، جبکہ ملتان میں ایک جعلی خاتون اکاؤنٹ بنانے والے کو سائبر کرائم وِنگ نے گرفتار کیا۔
صوابی کا یہ واقعہ صرف مزاح یا تفریح تک محدود نہیں بلکہ یہ سوال بھی اٹھاتا ہے کہ کب تک سوشل میڈیا فنکار اپنی اصلی شناخت چھپا کر ناظرین کو دھوکا دیتے رہیں گے؟ اور کیا آن لائن اخلاقیات کا دائرہ مزید سخت ہوتا جا رہا ہے؟ یہ معاملہ پاکستان میں ڈیجیٹل شناخت کے بڑھتے بحران اور معاشرتی اقدار کے بدلتے رجحانات کی ایک تازہ مثال ہے۔
